اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)وفاقی آئینی عدالت نے انسدادِ دہشت گردی عدالت نمبر 4 کراچی کے جج کو بحال کر دیا ہے جنھیں انسدادِ دہشت گردی (سندھ ترمیمی) ایکٹ 2025 کے بعد ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا تھا۔وفاقی آئینی عدالت نے انسدادِ دہشتگردی عدالتوں کے ججوںکو مقررہ مدت سے پہلے عہدے سے ہٹانے کا حکومتی نوٹیفکیشن غیرقانونی قرار دے دیا اور اس حوالے سے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم کر دیا۔
سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے جسٹس کے کے آغا کی تحریر کردہ 15 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ترمیمی ایکٹ میں نہ تو کوئی واضح شق موجود ہے اور نہ ہی ایسا کوئی لازمی اشارہ ملتا ہے جس سے نئی مقرر کردہ عمر کی حد کا اطلاق اس کے نفاذ سے پہلے ایک مقررہ مدت کے لیے کی گئی تعیناتیوں پر ہوتا ہو۔ عدالت نے کہا 65سال عمرکی حد مقرر کرنے والی قانونی ترمیم کا اطلاق ترمیم سے پہلے مقرر ہونے والے ججوں کی ملازمت ختم کرنے کے لئے نہیں کیا جا سکتا۔جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس کریم خان آغا کے دو رکنی بنچ نے منظور یامین کی اپیل منظورکر لی۔








