محمد جاوید قصوری 16

3 ستمبر کی ہڑتال، عوام اور تاجر برادری کے احساسات اور تحفظات کا پرامن اظہار ہوگی ‘ جاوید قصوری

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری کی زیرصدارت صوبائی نظم کا اہم اجلاس منصورہ میں منعقد ہوا، جس میں ملک کو درپیش معاشی صورتحال، مہنگائی، ظالمانہ ٹیکسوں اور عوام پر بڑھتے ہوئے معاشی بوجھ سمیت 3 ستمبر کو ہونے والی ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی تیاریوں کے حوالے سے تفصیلی مشاورت اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں صوبائی ذمہ داران نے اپنے اپنے اضلاع میں ہڑتال کو مؤثر اور کامیاب بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔اجلاس میں صوبائی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر بابر رشید، صوبائی نائب امراء نصراللہ گورائیہ، ذکراللہ مجاہد، رانا عبدالوحید خان، صوبائی نائب قیمین رانا تحفہ دستگیر احمد، مہر بہادر خان جھگڑ، میاں رحمت اللہ اور باسم سعید چوہدری سمیت دیگر ذمہ داران نے شرکت کی۔

شرکاء اجلاس نے اس امر پر اتفاق کیا کہ موجودہ معاشی حالات میں عوام اور تاجر برادری کو تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا اور ان کے جائز مطالبات کے لیے ہر ممکن آئینی، جمہوری اور پُرامن جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے محمد جاوید قصوری نے کہا کہ تاجر برادری ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور آج وہ بھی عام آدمی کی طرح حکومتی معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری طبقے پر ٹیکسوں کا بڑھتا ہوا بوجھ، بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے کاروبار کرنا مشکل بنا دیا ہے۔

ایسے حالات میں تاجر برادری کا عوام کے ساتھ کھڑا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ معاشی مشکلات اب کسی ایک طبقے کا مسئلہ نہیں رہیں بلکہ پورا معاشرہ اس سے متاثر ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ 3 ستمبر کی ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال عوام اور تاجر برادری کے احساسات اور تحفظات کا پرامن اظہار ہے۔ جماعت اسلامی تاجر برادری سمیت ہر اس طبقے کے ساتھ کھڑی ہے جو مہنگائی، ٹیکسوں اور حکومتی پالیسیوں کے باعث مشکلات کا شکار ہے۔ انہوں نے صوبائی اور ضلعی ذمہ داران کو ہدایت کی کہ وہ تاجر تنظیموں، کاروباری مراکز اور عوامی نمائندہ حلقوں سے مسلسل رابطے میں رہیں اور ہڑتال کی کامیابی کے لیے بھرپور عوامی آگاہی مہم چلائیں۔

محمد جاوید قصوری نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کی جدوجہد کسی فرد یا جماعت کے خلاف نہیں بلکہ عوام کے حقوق اور ملک کے بہتر مستقبل کے لیے ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کی آواز سننے، تاجروں کے تحفظات دور کرنے اور معاشی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکمرانوں نے عوامی مشکلات کو نظرانداز کرنے کا سلسلہ جاری رکھا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔اجلاس کے آخر میں 3 ستمبر کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کے سلسلے میں مختلف اضلاع میں رابطہ مہم تیز کرنے، تاجر تنظیموں سے ملاقاتیں کرنے اور عوام کو ہڑتال کے مقاصد سے آگاہ کرنے کے حوالے سے احتجاجی تحریک کو تیز کرنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں