محمد جاوید قصوری 22

20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800 روپے، حکمرانوں نے عوام سے روٹی بھی چھین لی ،جاوید قصوری

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے ملک میں آٹے سمیت اشیائے خوردونوش کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمرانوں نے عوام سے روٹی کا آخری نوالہ بھی چھین لیا ہے، 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800 روپے تک پہنچ جانا عام آدمی کے لیے ایک نئے معاشی بحران کی علامت ہے، مہنگائی، بے روزگاری اور کم ہوتی قوتِ خرید نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے جبکہ حکومت کی جانب سے ریلیف کے دعوے صرف اعلانات اور دلاسوں تک محدود ہیں۔

ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے گزشتہ روز مختلف پروگرامات سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ آٹا، چینی، گھی، دالیں، سبزیاں اور دیگر ضروری اشیاء عام شہری کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں۔ مزدور، سرکاری ملازمین، پنشنرز اور سفید پوش طبقہ شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں جبکہ حکمران طبقہ عوامی مشکلات سے لاتعلق دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی موجودہ لہر نے لاکھوں خاندانوں کے گھریلو بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے اور لوگ دو وقت کی روٹی کے حصول کے لیے پریشان ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ عوام کو بنیادی ضروریات زندگی مناسب نرخوں پر فراہم کرے، مگر بدقسمتی سے حکومتی پالیسیوں کا بوجھ براہ راست عوام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئندہ وفاقی بجٹ میں عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں مہنگائی کی شرح کے تناسب سے خاطر خواہ اضافہ کیا جائے اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے خصوصی ریلیف پیکیج متعارف کروایا جائے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بدعنوانی اور ناقص حکمرانی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مسائل ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی حالیہ جائزہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان کا انفراسٹرکچر سیکٹر بدعنوانی اور گورننس کی ناکامیوں کے بلند خطرات سے دوچار ہے۔

یہ صورتحال اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ قومی وسائل کی شفاف اور مؤثر نگرانی کا نظام کمزور ہے جس کے اثرات براہ راست عوام پر پڑتے ہیں۔محمد جاوید قصوری نے مزید کہا کہ اگر حکومت واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو اسے کرپشن کے خاتمے، مالیاتی نظم و ضبط، ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی اور ضروری اشیاء کی قیمتوں میں فوری کمی کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں