سرفراز بگٹی 20

14ہزار اساتذہ بھرتی کرکے3200اسکول بحال کئے، 7لاکھ20ہزار طلبہ کو اسکول میں داخل کروایا ،وزیراعلیٰ

کوئٹہ(رپورٹنگ آن لائن)وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ14ہزار اساتذہ بھرتی کرکے 3200اسکول بحال کئے 7لاکھ20ہزار طلبہ کو اسکول میں داخل کروایا اسکول سے باہر بچوں کی شرح کو 14فیصد کم ڈراپ آؤٹ شرح کو 5فیصد کم ،اسکول چھوڑنے والوں کی شرح 11فیصد کم ہوگی،

سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی 46فیصد سے بڑھ کر 89فیصد ہوگئی ہے زچگی کے دوران سامان کی فراہمی بڑھاکر 86فیصد کردی ہے94فیصد ایمرجنسی ادویات موجود ہیں،میرٹوکریسی ،گڈگورننس اورمکالمے کے ذریعے نوجوانوں کو ریاست کے قریب کریں گے بلوچ دانشور اور سول سوسائٹی سوچے کہ تشدد اور حقوق کا کوئی لینا دینا نہیں بلوچستان کی شورش بھی کرد تحریک کی طرح ختم ہوگی،اے ٹی ایف ،سی ٹی ڈی ،ایس او ڈبلیوکی تنخواہوں ،شہدا کیلئے معاوضے میں اضافے کا اعلان کرتا ہوں۔

یہ بات انہوں نے اتوار کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ آج شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا یوم پیدائش ہے انہیں انکی عوامی اورسیاسی خدمات پرخراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ اڑھائی سالہ حکومت میں اتحادیوں نے میری رہنمائی کی اور کڑے وقت میں میرے ساتھ کھڑے رہے جس پر انکا شکرگزار ہوں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی روایات ہیں جسے اپوزیشن نے بخوبی نبھایا ہے اور جس زیرک انداز میں بلوچستان میں اپوزیشن نے اپوزیشن کی ہے وہ قابل تحسین ہے دوسرے صوبوں اور مرکز میں گالم گلوچ ،کتابیں پھاڑنے اور ماضی میں یہاں گملے پھینکنے کا کلچر تھا آج ہمارا بجٹ انتہائی خوش اسلوبی ،صبر ،برداشت ،تنقید کے ساتھ منطور ہوا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ جب حکومت ملی تو ہم نے کچھ وعدے اوردعوے کئے ہم پر طنز کیا گیا مفت کے مشورے دینے والے بولتے رہے اور ہم آگے چلتے گئے اورجو ٹھان لیا سو ٹھان لیا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے وعدہ کیا تھا کہ بلوچستان کا کوئی سکول بندنہیں ہوگا آج 15370اسکولوں میں سے 15ہزار سکول کھل چکے ہیں 370اسکول ایسے ہیں جو سیاسی و انتظامی بنیادوں پر غلط حکمت عملی کے تحت بنائے گئے ہم نے 14ہزار اساتذہ بھرتی کرکے 3200اسکول بحال کئے 7لاکھ20ہزار طلبہ کو اسکول میں داخل کروایا اسکول سے باہر بچوں کی شرح کو 14فیصد کم ڈراپ آؤٹ شرح کو 5فیصد کم ،اسکول چھوڑنے والوں کی شرح 11فیصد کم اور نوجوانوں میں خواندگی کو 7فیصد بڑھایا ۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت میں 2800صحت عملہ بھرتی کیا 4519ڈاکٹروں کو ترقی دی 154بی ایچ اوزبحال کئے او پی ڈی میں تعداد میں10لاکھ اضافہ کیا نئے ٹراما سینٹر نے کام شروع کردیا ہے کینسر کا ہسپتال تیار ہے سیٹلائٹ کے ذریعے تمام ہسپتالوں میں مریضوں کا معائنہ چل رہا ہے فارمیسی مکمل طورپر آن لائن کردی گئی ہے بی آئی سی بی ڈی افتتاح کیلئے تیار ہے ۔انہوں نے کہا کہ ادویات کی فراہمی 46فیصد سے بڑھ کر 89فیصد ہوگئی ہے زچگی کے دوران سامان کی فراہمی بڑھاکر 86فیصد کردی ہے94فیصد ایمرجنسی ادویات موجود ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ نومبر2024ء سے بلوچستان میں پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا حفاظتی ٹیکہ جات کی شرح 38سے بڑھاکر 56فیصد کردی ہے انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے سرکاری دفاتر میں حاضری کی شرح 45فیصد تھی آج یہ شرح 82فیصد ہوگئی ہے صحت مراکز میں حاضری کی شرح 80فیصد ہوگئی ہے بلوچستان میں سرکاری فائلوں پر فیصلے کا دورانیہ 92دن سے کم ہوکر 13دن ہوگیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان پر یہ الزام تھا کہ ہم اپنے ترقیاتی فنڈز خرچ نہیں کرسکتے تھے جب ہم نے حکومت سنبھالی تو ماضی میں یہ شرح 65فیصد تک تھی آج گزشتہ دو سالوں کے دوران بلوچستان حکومت نے 100فیصد ترقیاتی فنڈ خرچ کئے ہیںدو سال کے دوران 6ہزار اسکیمات مکمل کی ہیں اس میں 60فیصد وہ اسکیمات ہیں جو پچھلی حکومتوں کی تھیں ۔

انہوںنے کہا کہ ہم نے وعدہ کیا تھا کہ نوکری بیچنے نہیں دیں گے میرٹ پر عملدرآمد کریں گے جولائی سے بلوچستان کے تمام محکموں میں بھرتی کا عمل AIکے ذریعے ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں 14اگست سے پیپلز ٹرین سروس شروع کرنے جارہے ہیں جو کچلاک سے سریاب تک چلے گی پورے بلوچستان میں فائبر آپٹک نظام بچھانے جارہے ہیں منڈیاں اور بس اڈے فعال ہونگے 3ہزار اسکولوں میںمزید دو کمرے بنائے جائیں گے 500بی ایچ یوز کو ٹیلی میڈیسن سے منسلک کیا جائے گا جس سے 85فیصد خواتین مستفید ہونگی 1ہزار مڈل اور ہائی اسکو ل اپ گریڈ ہونگے صوبے کے مختلف اضلاع میں آن اور آف گریڈ سولر منصوبے ہونگے ۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے تمام اضلاع کی میونسپل کمیٹیز میں صفائی کیلئے مشینری پہنچے گی 400یونین کونسلز کے دفاتر بنارہے ہیں ہر یوسی میں پینے کے صاف پانی کیلئے فلٹریشن پلانٹ نصب ہوگا صوبے کی بچیوں کو جولائی سے خصوصی سکالر شپ کا اجراء کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بلوچستان کے امن وا مان کے حوالے سے بات ہورہی ہے لوگ کم علمی کی بنیاد پر قومی اسمبلی اور سینٹ میں بحث کر رہے ہیں میں نے قومی اسمبلی کے اسپیکر اور چیئرمین سینٹ کو خط لکھے ہیں کہ مجھے اجازت دی جائے کہ بلوچستان کے امن وامان کی صورتحال پر ایوانوں کو آگاہ کرسکوں ۔انہوں نے کہا کہ ہم پر تنقید ہوتی ہے کہ شاید ہم مذاکرات کے حامی نہیں کون یہ چاہے گا کہ تنازع بات چیت کے ذریعے حل نہ ہو ۔

انہوںنے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم جنگ سے مستفید ہوئے ہیں لیکن ہم جنگ کے متاثرین ہیںآج بھی میرے علاقے کے90سال سے زائد عمر کے سفید ریش کارکن کو شہید کیا گیاٹوئٹر سردار کو کہتا ہوں کہ تماری انگلی کاٹ دو آج جاوں میری جگہ بیٹھ جاؤ ں یہ وہ لوگ ہیں جو جنگ سے فائدہ اٹھارہے ہیں اوراپنا بیانیہ بناتے ہیںہمیں جنگ نہیں بلکہ امن سے فائدہ ہوگا ہماری سیاست ترقی اور امن کے ساتھ جڑی ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر ڈائیلاگ اس شرط پر ہوں کہ ریاست پاکستان نے ٹوٹنا ہے تو ہم 100سال تک لڑنے اور اپنی جانیں دینے کیلئے تیارہیںلیکن آئین میں رہتے ہوئے کوئی بھی بات کرنا چاہتا ہے تو اس کیلئے کل بھی دروازے کھلے تھے اور آج بھی کھلے ہیں اور کل بھی کھلے رہیں گے۔

انہوںنے کہا کہ انگلینڈ اور آئرش ریبپلکن پارٹی کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے نہ کہ آئرش ریپبلکن آرمی ،مذاکرات ہمیشہ سیاسی لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیںجو تشدد کرتا ہے بسوں سے اتار کر لوگوں کو مارتا ہے قتل بھی ہیں کریں ٹرین بھی ہماری ہائی جیک کریں معافی بھی ہم مانگیں یہ نہیں ہوسکتا۔انہوںنے کہا کہ یہ مسلمہ اصول ہے کہ جو جوان چھٹی پرجارہا ہو اور نہتا ہو وہ معصوم مسافرہے اسے قتل کرنا کہاں کی بہادری ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجابی بھائیوں کو قتل کرنے والے بلوچ نہیں بلکہ دہشت گرد ہیں جو پاکستانیوں کوشہید کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں بلوچ پارلیمنٹرینز ،دانشوروں ،نوجوانوں ،وکلاء ،ججز سول سوسائٹی کو مخاطب کررہا ہوںکہ بلوچ کو لاحاصل جنگ میں دھکیلا جارہا ہے انہیں پروپیگنڈہ کے ذریعے استعمال کیا جارہا ہے اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ بلوچستان کو تشدد سے آزاد کروایا جاسکتا ہے تو اسکا جواب نفی میں ہے دانشوروں کو کہتا ہوں کہ وہ ڈبیٹ کرلیں اوراس بات پرسوچیں کہ بلوچ شورش کردوں سے متاثر ہے اوراسکا انجام بھی کرد تحریک کی طرح ہتھیارڈال کر ہوگا دانشور احساس کریں اوراس دہشت گرد ٹولے کو مسترد کریں تشدد کا محرومی ،عدم مساوات اور ترقی نہ ہونے سے کچھ لینا دینا نہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس بار بلوچستان حکومت نے جس طرح صوبے کا کیس لڑا ہے اس کی مثال نہیں ملتی ۔

انہوں نے کہا کہ تشدد کرنے اوراسکی حمایت کرنے والے دونوں برابر ہیں آئین کا آرٹیکل 5کہتا ہے کہ ہرشہری ریاست کے ساتھ غیرمشروط وفاداری کریگا ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بھرتیاں کرکرکے نان ڈویلپمنٹ بجٹ 800ارب تک لے جانے والے نوکریاں بیچنے والے کوئی لاہور سے آنے والے پنجابی نہیں بلکہ ہم خود تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم میرٹوکریسی ،گڈگورننس کے ساتھ نوجوان کو ریاست سے جوڑیں گے ہم ان سے جامعات میں جاکر مکالمے کریں گے حقیقت بتائیں گے اورانہیں واپس قومی دھارے میں لائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ میرے علاقے میں گزشتہ دنوںقبائلی لوگوںکے ساتھ جھڑپ میں ایک مسلح نوجوان مارا گیا اسکے موبائل پر جب میسج دیکھے تواسکے بھائی نے اسے کہا تھا کہ کتنی بار تمہیں سمجھایا ہے کہ برے کام کا برا انجام ہوگا والدہ پریشان ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب کا فرض ہے کہ ہم نوجوانوں کو واپس قومی دھارے میں لائیں ۔انہوں نے کہا کہ میں تشدد کا حامی نہیں موت کا خوف مجھے نہ روک سکتا ہے اور نہ ہی ڈراسکتا ہے میں حقائق بتاتا رہوں گا نہ رحمن گل ،نہ بشیر زیب سے ڈراتا ہوں جو تشدد نہیں کریگا ان سے بات چیت کیلئے سو بسم اللہ ہے جس نے موسیٰ خیل میں بس سے اتار کر ماں کے بیٹے بیوی کے شوہر کواسکے سامنے شہید کیا ہم اس ماں اور بیوہ کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی بڑھنے کی وجہ بلوچ دہشت گرد تنظیموں کی آباد کاری اور اور نیٹو کی جانب سے وہ اسلحہ دہشت گردوں کو ملنا ہے جو وہ افغان نیشنل آرمی کے لئے 30سال تک لڑنے کیلئے چھوڑ کر گئے تھے دہشت گرد آج اس اسلحہ سے پانچ کلومیٹر دور بیٹھ کر ہمارے جوان کو نشانہ بناتے ہیں ہم بھی اپنی فورسز کی استعداد بڑھارہے ہیںاور دہشت گردوں کو شکست دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ پی اینڈ ڈی اور فنانس کو ڈیجٹٹلائز کرنے پراے سی ایس پی اینڈ ڈی ،سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری فنانس ،پرنسپل سیکرٹری کو شاباش دیتا ہوں ۔انہوں نے کہا کہ چیف سیکرٹری بلوچستان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ جس طرح وہ بلوچستان کیلئے کام کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ شہدا کے خاندانوں سے کہتا ہوں کہ آپ کے بچے شہید ہیں ہم انکے غم میں شریک ہیں پولیس کے جوان مشکل صورتحال سے گزررہے ہیں ہم انہیں جدید ہتھیاردیں گے انکی تنخواہیں بھی بڑھائیں گے اے ٹی ایف ،ایس او ڈبلیو ،سی ٹی ڈی کی تنخواہ میں 10فیصداضافے کا اعلان کرتا ہوں شہدا کے معاوضے میں 100فیصد اضافہ کیا جائے گا سویلین شہداء کے لئے مزید دس لاکھ روپے اضافے کا اعلان کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کے ملازمین کو ایک ماہ کی تنخواہ دینے کا بھی اعلان کرتا ہوں اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرا ز بگٹی نے ایک نظم بھی پڑھ کرسنائی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں