اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ یوم آزادی محض ایک تاریخ نہیں بلکہ ایمان، آزادی، خودمختاری اور قومی عزم کی علامت ہے،ملک کو درپیش چیلنجز پر قابو پانے کے لیے قومی اتحاد، قانون کی حکمرانی، میرٹ اور انصاف ضروری ہے۔
پاکستان کے 80 ویں یوم آزادی کے موقع پر جمعہ کو یہاں کنونشن سینٹر میں قومی یوم آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ دن قوم کو برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخی جدوجہد کی یاد دلاتا ہے۔تقریب میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفی شاہ، وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چوہدری اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔تقریب میں عوام ، طلبااور فنکاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر طلبا اور فنکاروں نے ملی نغمے پیش کئے۔ سید یوسف رضا گیلانی نے قائداعظم محمد علی جناح اور تحریک پاکستان کے دوران جانیں قربان کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے ملک کی سلامتی اور دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کو اپنی بہادر مسلح افواج پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دفاع میں پوری قوم مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ خواتین ملکی ترقی میں کلیدی قوت ہیں۔ انہوں نے خواتین کو تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، روزگار اور معاشی طور پر بااختیار بنانے کیلئے یکساں مواقع فراہم کرنے پر زور دیا۔انہوں نے نوجوانوں کو پاکستان کا سب سے قیمتی اثاثہ اور مستقبل قرار دیا۔ چیئر مین سینیٹ نے نوجوانوں کیلئے سائنس، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت میں تعلیم، مہارت اور مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز پر قابو پانے کے لیے قومی اتحاد، قانون کی حکمرانی، میرٹ اور انصاف ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے صنعت، زراعت، برآمدات اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے لیے تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، روزگار اور کاروبار کے مواقع کو بڑھانا بھی ضروری ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ ایک نظریہ اور قومی عزم ہے۔انہوں نے زور دیا کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ انہوں نے کمزور طبقات کے تحفظ اور اقلیتوں کے حقوق کا احترام کرنے پر بھی زور دیا۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر پاکستان کے اتحاد کے رنگ ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کی متنوع زبانیں، ثقافتیں اور روایات کمزوری نہیں بلکہ قومی طاقت ہیں۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان ہمسایہ ممالک اور عالمی برادری کے ساتھ تعاون اور باہمی احترام پر مبنی پرامن تعلقات چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان جنگ پر مذاکرات، تعاون اور سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی نے مکہ دفاعی معاہدے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی اور تزویراتی کامیابی قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ اس معاہدے سے علاقائی تعاون، اعتماد سازی اور اجتماعی سلامتی کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی اور دفاعی کامیابیاں اس کی سیاسی اور عسکری قیادت کے وژن کا نتیجہ ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان، صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے لیے پاکستان کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطین کے مظلوم عوام کے لیے انصاف، آزادی اور خودمختاری کی حمایت جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ قوم پاکستان کو ایک مضبوط، خوشحال، پرامن، جمہوری اور باوقار ملک بنانے کے لیے پرعزم ہے۔چیئرمین سینیٹ نے زور دیا کہ قومی مفادات کو ذاتی اور سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھا جائے۔انہوں نے ملک کی ترقی کے سفر کو جاری رکھتے ہوئے آئین اور جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم نے ہمیشہ عزم، حوصلے اور اتحاد کے ساتھ چیلنجز کا سامنا کیا ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی نے قوم پر زور دیا کہ قائداعظم کے ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط کے اصولوں کو قومی زندگی کے لیے عملی رہنما اصول بنایا جائے۔انہوں نے اپنے خطاب کا اختتام پاکستان کے استحکام، خوشحالی، امن اور ترقی کے لیے دعا سے کیا۔تقریب کے اختتام پر چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے طلبااور فنکاروں سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔









