کراچی (رپورٹنگ آن لائن ) سپریم کورٹ نے ہندو جم خانہ بحالی کیس میں ناپا کو متبادل جگہ دینے سے متعلق 2 دن میں رپورٹ طلب کر لی ،چیف جسٹس آف پاکستان گلزاراحمد نے کہا ہے کہ اگرمندر ختم کیا گیا ہے تو شواہد دیں، عدالت نے سارے مندروں کو بحال کرایا ہے،اگر ہندوجم خانہ میں مندر تھا تو اس کو بھی بحال کروائیں گے۔
بدھ کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ہندو جیم خانہ کی بحالی کے کیس کی سماعت ہوئی۔ سپریم کورٹ نے ناپا کو متبادل جگہ نہ دینے پر برہمی کا اظہار کیا۔ سیکرٹری کلچر نے عدالت کو بتایا کہ مجھے عہدے پر آئے ہوئے ایک ہفتے ہوا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ عدالت کو حکم دئیے ہوئے 3 برس ہوگئے ہیں اورآپ لوگ اس معاملے کو ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں۔
سیکرٹری کلچر نے بتایا کہ سابق سیکرٹری نے ناپا کو متبادل جگہ کا معاملہ کمشنر کراچی کو بھیجا تھا۔ جسٹس قاضی محمد امین نے ریمارکس دئیے کہ چاہے وزیراعلی ہاس یا چیف سیکرٹری کے گھر میں جگہ دیں لیکن فوری طور پر پبلک پراپرٹی خالی کرائیں۔ جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دئیے کہ ان کے پاس سارے جہاں کی پراپرٹیز موجود ہیں لیکن ناپا کیلئے جگہ نہیں مل رہی ہے۔
ہندوجم خانہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جیم خانہ میں مندر کواسٹوڈیو میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ اگرمندر ختم کیا گیا ہے تو شواہد دیں،ہم نے سارے مندروں کوبحال کرایا ہے،اس کو بھی کرائیں گے۔ سپریم کورٹ نے ناپا کو متبادل جگہ دینے سے متعلق 2 دن میں رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔









