کراچی (رپورٹنگ آن لائن ) سپریم کورٹ نے کراچی میں ہندو جِم خانہ کے اندر قائم ناپا کیلئے نئی جگہ کے تعین اور جِم خانہ میں قائم مارکی اور عارضی دفاتر فوری ختم کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لوگ تو موہن جو دڑو اور مکلی سے اینٹیں تک اٹھا کر لے گئے ہیں۔ سندھ سب سے بد قسمت صوبہ ہے، جہاں بنیادی سہولیات میسر نہیں۔ جمعہ کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ہندو جیم خانہ سے ناپا کی منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ آج ہونے والی سماعت سماعت میں سیکریٹری کلچر سندھ، کمشنر کراچی و دیگر حکام عدالت پیش ہوئے۔ ثقافتی عمارتوں کی مناسب دیکھا بھال نہ ہونے پر چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد سیکریٹری کلچر پر برہم ہوئے۔
چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس میں کہا کہ شہر میں برنس روڈ، پاکستان چوک سمیت ثقافتی عمارتوں کی بھر مار تھی، یہ ورثہ کسی اور ملک میں ہوتا تو وہاں کی سیاحت کہاں سے کہاں پہنچ جاتی، برنس روڈ پر جا کر دیکھیں ہیرٹیج بلڈنگ کا کیا حال کیا ہوا ہے۔ کراچی دیکھیں، شہر میں ہر طرف دھول، مٹی، گندگی اور بدبو ہے، روم میں جا کر دیکھیں ہیرٹیج کی کیا اہمیت ہے، ایک ایک اینٹ کو محفوظ رکھتے ہیں، سندھ سیکریٹریٹ کے پیچھے دیکھیں کیسی کیسی خوبصورت عمارتیں تھیں، سب تباہ کر دی گئیں۔
ایک موقع پر چیف جسٹس نے ناپا کے وکیل اور سیکریٹری سندھ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جا کر دیکھیں برنس روڈ پر لوگوں نے اوپر اسٹرکچر بنا لیا ہے۔ آپ لوگوں نے ورثے کو تباہ کر دیا۔ آپ لوگ ڈبہ آفس سے باہر نکلیں تو پتا چلے۔ جس پر حکومتی نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ زیب النِسا اسٹریٹ سے پرانی عمارتیں باری باری گرا رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا لکشمی بلڈنگ گرادی؟ جس پر وکیل نے کہا کہ نہیں اس کی حالت دیکھیں کیا ہوگئی ہے۔
جسٹس گلزار نے جوابا کہا کہ آپ نے تو میرا ہارٹ اٹیک کرا دیا تھا۔ چیف جسٹس نے سیکریٹری سندھ کی سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آج ایسی بلڈنگ بنانے کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ آپ تو کاپی بھی نہیں کر سکتے، سارے سیکریٹریز اپنے دفاتر میں بیٹھے رہتے ہیں، ان کو کیا پتہ کلچر کیا ہوتا ہے۔ جس پر سیکریٹری کلچر سندھ نے کہا کہ کلچر کے لیے بڑی رقم رکھی ہوئی ہے۔ چیف جسٹس جوابا بولے کہ لیکن سب رقم کھا جاتے ہیں۔ سیکریٹری ثقافت سندھ نے چیف جسٹس کے ریمارکس پر کہا کہ ہمارے پاس موہن جو دڑو ہے، مکلی اور ہڑپہ ہے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ کہ موہن جو دڑو اور مکلی سے لوگ اینٹیں تک اٹھا کر لے گئے ہیں۔ جسٹس اعجاز نے کہا کہ حکومت سو رہی تھی جب آڈیٹوریم بن رہا تھا؟ ہیریٹیج بلڈنگ میں کیسے تعمیر کرسکتے ہیں؟۔ جس پر ناپا کے وکیل نے کہا کہ خالی جگہ پر تعمیرات ہوئیں اوریجنل بلڈنگ کو نہیں چھیڑا گیا۔ ایسے تو مہٹہ پیلس میں کوئی جگہ خالی ہے وہاں تعمیر کردیں کچھ ؟۔ یہاں مارکی کیوں ہے؟ مارکی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ یہ پراپرٹی تو ریاست کی ملکیت ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ ہندو جیم خانہ کی عمارت کو فوری اصل حالت میں بحال رکھا جائے۔ چیسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہر عبادت کی جگہ کا احترام کرتے ہیں، ہندو جیم خانہ کی ثقافتی حیثیت کو کوئی نقصان نہیں ہونا چاہیئے۔ ناپا کو چلانے والے بھی پڑھے لکھے ہیں، ثقافتی عمارت کا تحفظ یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے حکم دیا کہ ہندو جیم خانہ کی ڈرون فوٹیج بنائیں، عدالت میں بڑی اسکرین پر دیکھیں گے کہ عمارت کی کیا صورتِ حال ہے۔
عدالت نے صوبائی حکومت کو ناپا کیلئے متبادل جگہ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ناپا کے وکیل جگہ کا دورہ کرکے جائزہ لیں۔ جب کہ جیم خانہ عمارت کی تازہ تصاویر اور مکمل تفصیلات عدالت میں پیش کی جائیں۔ اس موقع پر عدالت نے کمشنر کراچی کو ناپا کیلئے نئی جگہ کے تعین کا حکم دیا اور کہا کہ جیم خانہ کی حدود میں قائم مارکی اور عارضی دفاتر فوری ختم کیے جائیں۔ مارکی اور دفاتر کی ہندو جیم خانہ میں کوئی گنجائش نہیں۔ کیس کی سماعت ملتوی کردی گئی۔









