کراچی(رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ وفاقی بجٹ میں کراچی کے بنیادی مسائل، خصوصاً پانی، ٹرانسپورٹ اور روزگار کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ 28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں، جبکہ عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے لیے کے فور اور ایس تھری منصوبوں سمیت ماس ٹرانزٹ منصوبوں کے لیے فوری طور پر فنڈز جاری کیے جائیں، کے فور منصوبہ، جس کے ذریعے 260 ملین گیلن پانی فراہم کیا جانا تھا، تاحال مکمل نہیں کیا جا سکا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کراچی میں 653 سرکاری نشستیں خالی ہیں، لیکن ان پر بھرتیوں کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے جا رہے، اگر بجٹ میں عوام کو حقیقی ریلیف نہ دیا گیا تو جماعت اسلامی بجٹ کے اگلے روز ہڑتال کے اعلان پر غور کر سکتی ہے۔
انہوں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو نااہل ادارہ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ادارے میں اربوں روپے کی کرپشن موجود ہے، جبکہ ایف بی آر کے لیے مہنگی گاڑیوں کی خریداری کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت نے مختلف شعبوں پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھا کر مافیاز کو فائدہ پہنچایا ہے، چینی کی برآمدات کی اجازت دینا بھی چند مخصوص افراد کو نوازنے کی پالیسی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک گیس کی قیمتوں میں کمی نہیں کی جاتی، ملکی معیشت ترقی نہیں کر سکتی، کراچی کے مسائل کے حل کے لیے وفاق اور سندھ حکومت سنجیدہ اقدامات کریں، کیونکہ شہر کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ سندھ اسمبلی میں بعض مسائل کو وفاقی معاملہ قرار دے کر ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے، جبکہ کراچی کے عوام مسلسل مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔









