لاہور(سلیمان چودھری)ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کی بڑی نا اہلی سامنے آ گئی۔ ملک کے میڈیکل سٹؤز سے مریضوں کے علاج معالجے میں استعمال ہونے والے غیر رجسٹرڈ ڈسپوزل اشیائ کی بہتات کا انکشاف ہوا ہے۔
غیر رجسٹرڈ اور سمگل شدہ ڈسپوزل اشیا کے استعمال سے مریضوں کی زندگی کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی اف پاکستان نے تمام صوبوں کو ایک مراسلہ ارسال کیا ہے جس کے مطابق ہور، غیر رجسٹرڈ ڈسپوزل اشیا کی فروخت کا اعتراف کیا گیاہے .
میڈیکل سٹورز سے سمگل شدہ ڈسپوزل اشیا کے بھی بڑے پیمانے پر فروخت ہو رہی ہے ۔ والے غیر رجسٹرڈ ڈسپوزل اشیا کا کاروبار کرنے والے افراد کی جانب سے غیر رجسٹرڈ اشیا کی فروخت کی شکایات آئی ہیں خط میں مزید کہا گیا ہے کہ مریضوں کے خون کے نمونے حاصل کرنے کے لیے استعمال ہونے والے غیر رجسٹرڈ آئی وی کینولا کی فروخت جاری سمگل اور غیر رجسٹرڈ آئی وی سیٹ اور مختلف سائز کی سرنجز بھی مارکیٹ میں پائے جاتے ہپں .
سمگل شدہ اور غیر رجسٹرڈ اشیا کی تعداد کا بھی کوئی علم نہیں۔ ملک میں مختلف ذرائع سے یہ غیر رجسٹرڈ شدہ اشیا سمگل ہو کر آ رہی ہیں غیر رجسٹرڈ شدہ اشیا کی ڈرگ ریگولیٹری اف پاکستان سے بھی کوئی جانچ پڑتال نہیں ہوئی .ان اشیا کے استعمال سے مریضوں کی زندگی کو سنگین خطرات لاحق ہ سکتے ہیں۔ڈریپ نے تمام صوبوں کو چیف ڈرگ کنٹرولرز کو غیر رجسٹرڈ اشیا فروخت کرنے والے کے خلاف کریک ڈاون کا حکم دیا ہے ۔









