چین 9

چین کی قومی معیشت جنوری سے جولائی تک مجموعی طور پر مستحکم رہی، ریاستی کونسل

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن)چین کی ریاستی کونسل کے دفترِ اطلاعات نے ایک پریس کانفرنس منعقد کی۔ قومی ادارۂ شماریات کے متعلقہ عہدیدار نے بتایا کہ رواں سال جنوری سے جولائی تک چین کی قومی معیشت مجموعی طور پر مستحکم رہی اور نئی اور بہتر سمت میں ترقی کا رجحان برقرار رہا۔

جنوری سے جولائی تک ملک کی بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار میں سال بہ سال 5.3 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ خدماتی شعبے کی پیداواری سرگرمیوں کا اشاریہ 4.7 فیصد بڑھا۔ اشیاء اور خدمات کی مجموعی خوردہ فروخت میں 2.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دیہی گھرانوں کی سرمایہ کاری کو نکال کر قومی سطح پر مقررہ اثاثوں میں سرمایہ کاری 260 کھرب 32 ارب اور 80 کروڑ یوآن رہی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 6.7 فیصد کم ہے۔ تاہم دانشورانہ املاک سے متعلق مصنوعات میں سرمایہ کاری میں 9.1 فیصد اضافہ ہوا۔

جنوری سے جولائی تک اشیا کی درآمد و برآمد کا مجموعی حجم 301 کھرب 26 ارب اور 40 کروڑ یوآن رہا، جو سال بہ سال 17.3 فیصد کا اضافہ ہے ۔ اس دوران برآمدات 174 کھرب اور 40 ارب یوآن رہیں، جن میں 14 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ درآمدات 126 کھرب 86 ارب اور 40 کروڑ یوآن رہیں، جو 22 فیصد زیادہ ہیں۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو کی مشترکہ تعمیر میں شامل ممالک کے ساتھ درآمد و برآمد 15.5 فیصد بڑھی ۔

اسی عرصے میں ملک کے شہری علاقوں میں سروے کی بنیاد پر بے روزگاری کی اوسط شرح 5.2 فیصد رہی۔ صارفی قیمتوں کے اشاریے میں سال بہ سال 0.9 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ پروڈیوسر پرائس انڈیکس کے اشاریے میں 1.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

قومی ادارۂ شماریات کے متعلقہ عہدیدار نے بتایا کہ جولائی میں کئی علاقوں میں بیرونِ ملک روانگی پر ٹیکس ریفنڈ کی اشیاء کی مالیت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ “چین کا سفر” کرنے والے غیر ملکی سیاحوں کی آمد کا رجحان مسلسل “چین میں خریداری” کے اضافے میں تبدیل ہو رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں