چین 10

چین میں غیر ملکی میڈیا  نمائندگان کا گیرونگ کاؤنٹی میں مٹی کے تودوں سے متاثرہ علاقے کا دورہ

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن)چین کی ریاستی کونسل کے دفترِ اطلاعات نے وزارتِ خارجہ کے تعاون سے غیر ملکی میڈیا نمائندگان کے ایک وفد کو 5  سے 6 ستمبر تک چین کے شی زانگ خود اختیار علاقے کی گیرونگ کاؤنٹی میں مٹی کے تودوں سے متاثرہ مقام کا دورہ کرایا۔

صحافیوں نے امدادی کارروائیوں کی صورتحال، تلاش و ریسکیو اور بحالی و تعمیرِ نو کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ 6 ستمبر کی سہ پہر غیر ملکی صحافیوں نے گیرونگ کاؤنٹی میں قائم ہنگامی امدادی کمانڈ کے اجلاس میں شرکت کی۔ شی زانگ خود اختیار علاقے کے متعلقہ ذمہ داران نے اجلاس میں صورتحال سے آگاہ کیا اور صحافیوں کے سوالات کے جواب دیے۔ امریکا، برطانیہ، روس، بھارت، پاکستان، سنگاپور اور برازیل سمیت مختلف ممالک اور خطوں کے میڈیا نمائندوں نے اس کوریج میں شرکت کی۔

میڈیا ملاقات میں شی زانگ خوداختیار علاقے کی گیرونگ کاؤنٹی میں چھبیس اگست کو مٹی کے تودوں سے ہونے والی تباہی کے لیے قائم ایمرجنسی ریسکیو کمانڈ سینٹر کے ایگزیکٹو ڈپٹی کمانڈر ، شی زانگ خود اختیار علاقے میں صوبائی پارٹی کمیٹی کی قائمہ کمیٹی کے رکن اور خود اختیار علاقے کے  نائب چیئرمین رین وے نے آفت کے وقوع پذیر ہونے کے بعد سے جاری امدادی و ریسکیو کارروائیوں کی مجموعی صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 26 اگست کو نیپال کی جانب مٹی کے تودے گرنے کے باعث شی زانگ خود اختیار علاقے کے شگاتسے شہر کی گیرونگ کاؤنٹی میں واقع گیرونگ بندرگاہ پر بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا اور کئی افراد لاپتا ہو گئے۔

اس وقت امدادی کام بنیادی طور پر چار پہلوؤں سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔پہلا، لاپتا افراد کی ہر ممکن طریقے سے تلاش اور ریسکیو ہے۔ عوام اور انسانی زندگی کو اولین ترجیح دیتے ہوئے سڑک بحال ہونے سے قبل ہی آبی، زمینی اور فضائی ذرائع سے بیک وقت امدادی کارروائیاں کی گئیں۔ 5 ستمبر کی شام 6 بجے تک مجموعی طور پر 2500 سے زائد امدادی اہلکار، 500 سے زائد امدادی گاڑیوں کی آمدورفت، 9000 سے زائد آلات و مشینری اور 1000 سے زائد ڈرون پروازیں استعمال کی گئیں، جبکہ فضائی راستے سے 5.43 ٹن امدادی سامان اور آلات پہنچائے گئے۔ 5 ستمبر کی شام 6 بجے تک 2 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے ۔

دوسرا، متاثرہ خاندانوں کے لیے جامع انتظامات ہیں۔ جاں بحق اور لاپتا افراد کے اہل خانہ سے فعال طور پر رابطہ کیا گیا، ان کی جذباتی معاونت کے لیے صبر و تحمل سے کام لیا گیا، ان کے خدشات کا بروقت جواب دیا گیا اور نفسیاتی معاونت فراہم کی گئی۔

تیسرا، ثانوی آفات کے خطرات کی روک تھام ہے۔ چین کے مختلف متعلقہ شعبوں سے تعلق رکھنے والے 100 سے زائد ماہرین اور تکنیکی اہلکاروں پر مشتمل ٹیمیں تشکیل دی گئیں، جو رکاوٹی جھیلوں، برفانی و چٹانی تودے گرنے کے ممکنہ مقامات اور دیگر علاقوں میں ثانوی چٹانی تودے گرنے، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودوں کے خطرات کی مسلسل نگرانی کر رہی ہیں۔

چوتھا، غیر ملکی امور سے متعلق کام کو فعال انداز میں آگے بڑھانا ہے۔ بار بار جانچ پڑتال کے بعد معلوم ہوا کہ اس آفت میں 23 ممالک سے تعلق رکھنے والے 261 غیر ملکی شہری لاپتا ہیں۔ متعلقہ معلومات سفارتی ذرائع کے ذریعے بروقت چین میں موجود متعلقہ ممالک کے سفارت خانوں کو فراہم کی گئی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ امدادی کاموں میں ہر انسانی جان کی تلاش کے لیے بھرپور کوششیں، ہر متاثرہ شخص کی احتیاط سے منتقلی و آبادکاری اور ہر لاپتا فرد کی شناخت کی مکمل تصدیق کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں ملک کے اندر موجود اور غیر ملکی لاپتا افراد کے اہل خانہ کے لیے چار ہیلپ لائنیں قائم کی گئی ہیں، جہاں چوبیس گھنٹے مسلسل فون کالز سنی جا رہی ہیں۔

تباہی کے بعد، متعلقہ اداروں نے ماہر ٹیموں اور تکنیکی وسائل کو منظم کرتے ہوئے ڈونگلن زانگبو دریا کے طاس میں 0.1 مربع کلومیٹر سے زائد رقبے والی 11 برفانی جھیلوں کی مسلسل سیٹلائٹ ریموٹ سینسنگ کے ذریعے نگرانی شروع کی۔ فی الحال، ان برفانی جھیلوں کے علاقوں میں کوئی غیر معمولی صورتحال سامنے نہیں آئی۔ شیگاتسے میونسپل پارٹی کمیٹی کے ڈپٹی سیکریٹری اور قائم مقام میئر لوو بو کرین نے کہا کہ حکام بندرگاہ کی بحالی سمیت دیگر متعلقہ امور پر مزید گہرائی سے غور اور تحقیق کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں