بیجنگ (نیوز ڈیسک)چین کے صدر شی جن پھنگ سے بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں چین کے سرکاری دورے پر موجود سلوواکیہ کے صدر پیٹر پیلیگرینی نے ملاقات کی۔
منگل کے روز شی جن پھنگ نے کہا کہ 2024 میں چین اور سلوواکیہ کے تعلقات کو تزویراتی شراکت داری کی سطح پر ترقی دی گئی۔ دوطرفہ کوششوں سے باہمی سیاسی اعتماد مسلسل مضبوط ہوا ہے، تعاون کے نمایاں نتائج سامنے آئے ہیں اور روایتی دوستی مزید گہری ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین سلوواکیہ کے ساتھ مل کر باہمی احترام، باہمی اعتماد، مساوات، باہمی مفاد، استحکام اور مضبوطی پر مبنی چین۔سلوواکیہ تزویراتی شراکت داری کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو مزید فوائد پہنچائے جا سکیں۔
شی جن پھنگ نے زور دیا کہ آئندہ مرحلے میں دونوں ممالک کو چار شعبوں پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ اول، تزویراتی اعتماد کو مزید مستحکم کرتے ہوئے ایک دوسرے کی مضبوط حمایت جاری رکھی جائے۔ دوم، باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو مزید گہرا کر کے مشترکہ ترقی کو فروغ دیا جائے۔ سوم، عوامی روابط کو وسعت دے کر روایتی دوستی کو آگے بڑھایا جائے۔ چوتھا، بین الاقوامی عدل و انصاف کے تحفظ اور عالمی گورننس میں اصلاحات کے لیے مشترکہ کردار ادا کیا جائے۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ چین ہمیشہ یورپی یونین کو اپنا شراکت دار سمجھتا ہے اور خلوص و خیرسگالی کے ساتھ چین۔یورپی یونین تعلقات کو فروغ دینے کی پالیسی پر کاربند ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سلوواکیہ یورپی یونین میں چین۔ یورپ اتفاقِ رائے کو فروغ دینے ، اختلافات کو مناسب طریقے سے حل کرنے اور چین۔یورپی یونین تعلقات کی صحت مند اور مستحکم ترقی کے لیے تعمیری کردار ادا کرے گا۔
صدر پیٹر پیلیگرینی نے کہا کہ ان کا ملک چین کے ساتھ تزویراتی شراکت داری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ایک چین کے اصول پر مضبوطی سے کاربند ہے۔ سلوواکیہ چین کے ساتھ باہمی اعتماد میں اضافہ، تعاون کے فروغ اور دوستی کو مزید مستحکم بنانے کا خواہاں ہے، جبکہ تجارت، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، روبوٹس اور نئی توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع کو وسعت دینے کی امید رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین کے رکن ملک کی حیثیت سے سلوواکیہ، یورپ ۔ چین تعاون کے فروغ اور اختلافات کو بات چیت اور مشاورت کے ذریعے حل کرنے میں مثبت کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ پیلیگرینی نے عالمی امور میں چین کے مقام اور اثر و رسوخ کو سراہتے ہوئے کہا کہ سلوواکیہ چین کے ساتھ مل کر کثیرالجہتی نظام، اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد اور بین الاقوامی قانون کے تحفظ کے لیے کام کرے گا تاکہ خطے اور دنیا میں امن و استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔









