چین 9

چین۔امریکہ تعلقات کی امید عوام سے وابستہ ہے, چینی میڈیا

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) چین کے اندرونی منگولیا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر دور سے آئے امریکی دوست “سائیکوس”، جن کا اصل نام رونالڈ ساکولسکی ہے، اور چین کی صحرائی زمینوں کو سرسبز بنانے والی ہیروئن این یوجن ایک دوسرے سے گلے ملے اور دونوں کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ 20 سے زائد برس بعد ہونے والی یہ ملاقات فوری طور پر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ چین اور امریکہ کے انٹرنیٹ صارفین نے پیغامات میں لکھا کہ یہ محبت اور شکرگزاری کی دو طرفہ وابستگی ہے اور دنیا کو ایسے تعاون کی مزید خوبصورت کہانیوں کی ضرورت ہے۔

1999 میں چین میں تدریس سے وابستہ امریکی استاد رونالڈ ساکولسکی ، این یوجن کی صحرائے ماؤسو میں شجرکاری کی کوششوں سے متاثر ہوئے۔ انہوں نے 5000 امریکی ڈالر جمع کرکے این یوجن کی صحرائی زمین کو سرسبز بنانے اور شجرکاری میں مدد کی۔ آج اس رقم سے خریدے گئے پودے بڑھ کر 50 ہزار سے زائد درختوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ رواں سال مئی میں این یوجن انٹرنیٹ پر ویڈیو کے ذریعے اپنے امریکی دوست کو تلاش کرنے میں بالآخر کامیاب ہو گئیں۔ بحرالکاہل کے آرپار قائم ہونے والی یہ دوستی چین۔امریکہ عوامی دوستی کا ایک خوبصورت نمونہ بن گئی ہے۔

چین۔امریکہ تعلقات کی بنیاد عوام نے مضبوط کی ہے۔ این یوجن اور رونالڈ ساکولسکی کی 20 سے زائد برس بعد ایک دوسرے سے ملاقات چین۔امریکہ تعلقات میں گرمجوشی پیدا کرنے کا سبب بنی ہے۔ اس سے ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے کہ افرادی و ثقافتی تبادلے اور عوامی روابط ہمیشہ چین۔امریکہ تعلقات کی جڑ ہیں۔ چین۔امریکہ دوستی اور تعاون عوام کی خواہش ہے۔ امریکی پیو ریسرچ سینٹر کے رواں سال اپریل میں جاری کردہ ایک سروے نتائج کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں چین کے بارے میں مثبت رائے رکھنے والے امریکی شہریوں کی شرح تقریباً دوگنی ہوگئی ہے۔

چین۔امریکہ دوستی کی کہانی عوام ہی لکھتے ہیں۔ 24 اگست کو رونالڈ ساکولسکی اور این یوجن ایک بار پھر صحرائے ماؤسو پہنچے اور دونوں نے مل کر دوستی کی علامت کے طور پر تین پودے لگائے۔ انہوں نے صرف پودے نہیں لگائے بلکہ سرحدوں اور وقت کی حدود سے ماورا ایک ایسی دوستی کو بھی مضبوط کیا جو انسانوں کے باہمی روابط کی خوبصورتی کی عکاس ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں