کھپرو (رپورٹنگ آن لائن) پاکستان تحریک انصاف اور غوثیہ جماعت کی جانب سے سابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی گرفتاری کے تین سال مکمل ہونے پر گزشتہ روز کھپرو میں احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں ہزاروں کارکنان اور شہریوں نے شرکت کی۔پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ بھی قافلے کے ہمراہ احتجاجی ریلی میں پہنچے اور اس کی قیادت کی۔
اس موقع پر کارکنان نے پارٹی قیادت اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف نعرے لگائے۔احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ نے کہا کہ سندھ میں عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور صوبے کے عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے حکمرانوں نے کرپشن کو فروغ دیا ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی کے خلاف سندھ بھر میں ”پیپلز پارٹی بھگاؤ، سندھ بچاؤ” مہم شروع کی جائے گی اور حکمران جماعت کی مبینہ کرپشن اور عوامی مسائل کے خلاف بھرپور تحریک چلائی جائے گی۔حلیم عادل شیخ نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی نے 18 سال کے دوران 33 ہزار ارب روپے کا بجٹ خرچ کیا، تاہم یہ رقم عوام پر خرچ نہیں کی گئی۔ ان کے بقول سندھ کے عوام آج بھی معیاری تعلیم، صحت، روزگار اور پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تھر کے عوام پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں جبکہ بے روزگاری کے باعث لوگ خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں۔ تھر کے بچے معیاری صحت کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے جان سے جارہے ہیں۔پی ٹی آئی سندھ کے صدر نے الزام عائد کیا کہ سندھ کے نوجوانوں کو ملازمتیں بھی مبینہ طور پر پیسوں کے عوض دی جارہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب پیپلز پارٹی کی مبینہ کرپشن پر بات کی جاتی ہے تو حکمران جماعت کی جانب سے ”مرسوں مرسوں، سندھ نہ ڈیسوں” کا نعرہ لگایا جاتا ہے۔
حلیم عادل شیخ نے کہا کہ اب پیپلز پارٹی کی مبینہ کرپشن کے خلاف بھرپور طریقے سے تحریک شروع کی جائے گی۔ ان کے بقول پیپلز پارٹی سندھ دشمن جماعت بن چکی ہے اور گزشتہ 18 سال سے سندھ کے عوام کے وسائل کو مبینہ طور پر لوٹ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام کو ان کے بنیادی حقوق دلانے اور صوبے کے وسائل کے تحفظ کے لیے تحریک کا دائرہ پورے سندھ تک پھیلایا جائے گا۔









