کراچی(رپورٹنگ آن لائن)ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ سندھ ہائیکورٹ کے 15 ستمبر 2026ء کے فیصلے کی روشنی میں کے ایم سی اور کراچی کے 25 ٹاؤنز کے 10 ہزار سے زائد ریٹائرڈ ملازمین کی گزشتہ کئی برس سے رکی ہوئی پنشن، پراویڈنٹ فنڈ، گریجویٹی اور لیو انکیشمنٹ سمیت دیگر واجبات 60 روز کے اندر ادا کیے جائیں۔ انہوں نے چیف سیکریٹری سندھ، کے ایم سی اور تمام متعلقہ ٹاؤن انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ عدالتی احکامات کے مطابق کھاتوں کی جانچ اور واجبات کا حتمی حساب مکمل کرکے ملازمین کے حقوق فوری واگزار کیے جائیں۔
ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ نے 15 ستمبر کو فنانس اور لوکل گورنمنٹ کے معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جس میں کے ایم سی اور کراچی کے 25 ٹاؤنز کے ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی ادائیگی سے متعلق ہدایات دی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر ایم کیو ایم پاکستان کے وکلا اشعر قریشی اور محمد الیاس نے 2025ء میں پٹیشن دائر کی تھی، جس کے بعد عدالت نے چیف سیکریٹری سندھ، کے ایم سی اور متعلقہ ٹاؤنز کے افسران کو تمام کھاتوں کی جانچ اور واجب الادا رقوم کا درست تعین کرکے ادائیگی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن اور دیگر واجبات کوئی خیرات یا رعایت نہیں بلکہ ان کا جائز اور قانونی حق ہیں، جنہیں محض فنڈز کی کمی کا جواز بنا کر روکا یا مؤخر نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق اگر واجبات کی ادائیگی کیلئے بجٹ میں ترجیحات تبدیل کرنے یا دیگر انتظامی اقدامات کی ضرورت ہے تو متعلقہ اداروں کو فوری طور پر یہ عمل مکمل کرنا چاہیے۔
انہوں نے میئر کراچی، چیف ایگزیکٹوز اور بلدیاتی نمائندوں کی کارکردگی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریٹائرڈ ملازمین کو طویل عرصے سے اپنے جائز حقوق کیلئے مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث ان کے مسائل حل کرنے کیلئے عدالتی راستہ اختیار کرنا پڑا۔پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم پاکستان کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر طحہ احمد خان، ارکان سندھ اسمبلی فیصل رفیق اور عامر صدیقی، انچارج لیبر ڈویڑن ارشد انصاری، مرکزی کمیٹی کے ارکان اور ریٹائرڈ ملازمین بھی موجود تھے۔اس موقع پر رکن سندھ اسمبلی فیصل رفیق نے تھانہ بریگیڈ میں ایک خاندان اور وکیل کے ساتھ مبینہ پولیس تشدد اور جھوٹی ایف آئی آر کے الزام کی مذمت کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں اور دیگر افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ایم کیو ایم پاکستان کی قانونی کمیٹی اور لیبر ڈویژن نے کہا کہ وہ ریٹائرڈ ملازمین کے حقوق کے حصول کیلئے قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے۔ رہنماؤں کے مطابق اگر سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے پر مقررہ مدت میں عملدرآمد نہ کیا گیا تو توہینِ عدالت سمیت قانونی راستہ اختیار کرنے کے ساتھ احتجاج کا لائحہ عمل بھی طے کیا جائے گا۔









