اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان نے درپیش غیر معمولی معاشی چیلنجز کے باوجود معاشی استحکام حاصل کر لیا ہے ،ملک ترقی کے نئے مرحلے میں داخل ہونے کی بنیاد رکھ چکا ہے،مالی سال 2025-26 میں ملکی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، جو گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین سطح ہے، حکومت معاشی استحکام کو پائیدار ترقی میں تبدیل کرنے، سرمایہ کاری بڑھانے، برآمدات کے فروغ اور عوامی خوشحالی کے لیے اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھے گی۔
قومی اقتصادی سروے 2025-26 پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی مثر معاشی پالیسیوں، مالی نظم و ضبط، اصلاحاتی اقدامات اور سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کے باعث قومی معیشت نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 میں ملکی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، جو گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔انہوں نے کہا کہ مالی سال کے آغاز میں عالمی تجارتی غیر یقینی صورتحال، شدید مون سون بارشوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی جیسے چیلنجز موجود تھے، تاہم حکومتی پالیسیوں اور معاشی نظم و ضبط کے باعث معیشت مستحکم رہی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا۔
محمد اورنگزیب کے مطابق پاکستان کی معیشت کا حجم بڑھ کر 452.1 ارب ڈالر (126.9 کھرب روپے)تک پہنچ گیا ہے، جبکہ فی کس آمدنی 1,751 ڈالر سے بڑھ کر 1,901 ڈالر ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مشرق وسطی میں کشیدگی اور دیگر بیرونی عوامل اثرانداز نہ ہوتے تو شرح نمو 4 فیصد سے بھی زیادہ ہو سکتی تھی۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ زرعی شعبے میں مجموعی نمو 2.8 فیصد رہی جبکہ فصلوں کے شعبے میں 1.4 فیصد مثبت نمو ریکارڈ کی گئی۔ ان کے مطابق لائیو سٹاک زرعی معیشت کا سب سے اہم شعبہ ہے اور زرعی جی ڈی پی میں اس کا حصہ تقریبا 63 فیصد ہے۔
صنعتی شعبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بڑی صنعتوں (ایل ایس ایم)نے 6 فیصد نمو حاصل کی، جو گزشتہ چار برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی بحالی کے ثمرات معیشت کے مختلف شعبوں میں نمایاں طور پر نظر آ رہے ہیں اور یہ بحالی وسیع بنیادوں پر استوار ہے۔وفاقی وزیر خزانہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت معاشی استحکام کو پائیدار ترقی میں تبدیل کرنے، سرمایہ کاری بڑھانے، برآمدات کے فروغ اور عوامی خوشحالی کے لیے اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھے گی۔









