لاہور (رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے سرکاری میڈیکل و ڈینٹل کالجز کی ٹیوشن فیس 15 ہزار روپے سے بڑھا کر 50 ہزار روپے مقرر کرنے پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میڈیکل کی تعلیم پہلے ہی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے، ایسے میں فیسوں میں تین گنا سے زائد اضافہ غریب اور متوسط طبقے کے ذہین طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
93 فیصد سے زائد میرٹ حاصل کرنے والے طلبہ کو بھی اب بھاری فیسیں ادا کرنا ہوں گی جبکہ فیس جمع نہ کروانے کی صورت میں داخلہ منسوخ کرنے کی پالیسی انتہائی ظالمانہ ہے،یہ اقدام فوری طور پر واپس لیا جائے ۔ انہوں نے محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر کے افسران کی جانب سے فیسوں میں اضافے کی سفارش کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیم کو عام آدمی کے لیے آسان بنائے، نہ کہ ایسے فیصلوں کے ذریعے والدین پر مالی بوجھ بڑھائے کہ وہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے سے ہی محروم ہو جائیں۔ میڈیکل کے شعبے میں داخلہ لینے والے طلبہ برسوں کی محنت اور غیر معمولی صلاحیتوں کے بعد میرٹ پر پہنچتے ہیں، مگر بھاری فیسیں ان کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن جائیں گئیں۔
محمد جاوید قصوری نے کہا کہ ملک میں پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بدحالی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔ ایسے حالات میں تعلیم کو مزید مہنگا کرنا حکومتی ترجیحات پر سوالیہ نشان ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ بیوروکریسی کے بعض فیصلوں میں عام شہری کی مشکلات اور زمینی حقائق کو یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے اپنے اخراجات میں کمی اور وسائل کے منصفانہ استعمال کو یقینی بنائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا تعلیمی نظام پہلے ہی سنگین بحران سے دوچار ہے۔ پاکستان اقتصادی سروے کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں 28 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ پنجاب میں شرح خواندگی 68 فیصد ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ حکومت تعلیم تک رسائی بڑھانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے، نہ کہ فیسوں میں اضافے سے مشکلات مزید بڑھائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رواں سال گیارہویں جماعت میں سرکاری ہائرسیکنڈری اسکولوں میں صرف 56 ہزار طلبہ کا داخلہ اور صوبے کے سرکاری اسکولوں میں دسویں جماعت کے چھ لاکھ سے زائد طلبہ کی موجودگی تعلیمی نظام کے لیے ایک اہم سوال ہے۔ لاہور کے 170 سرکاری اسکولوں کا مقررہ داخلوں کا ہدف حاصل نہ کر پانا بھی تشویش ناک ہے۔ میٹرک کے بعد طلبہ کی بڑی تعداد کا سرکاری ہائرسیکنڈری اسکولوں کے بجائے دوسرے تعلیمی اداروں کا رخ کرنا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ تعلیمی سہولتوں، معیار اور پالیسیوں کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔محمد جاوید قصوری نے مطالبہ کیا کہ سرکاری میڈیکل و ڈینٹل کالجز کی فیسوں میں کیا گیا اضافہ فوری واپس لیا جائے، مستحق طلبہ کے لیے وظائف اور مالی معاونت کا مؤثر نظام بنایا جائے اور تعلیم کو کاروبار بنانے کے بجائے قومی فریضہ سمجھا جائے۔ کسی بھی ملک کی ترقی کا راستہ تعلیم سے ہو کر گزرتا ہے۔









