اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سول و عسکری قیادت کے درمیان قریبی ہم آہنگی، مصدقہ معلومات کی بروقت ترسیل اور میڈیا کے ذمہ دارانہ کردار نے گزشتہ سال بھارت کے ساتھ معرکہ حق کے دوران پاکستان کو جعلی خبروں کا موثر مقابلہ کرنے اور اپنا بیانیہ مضبوط بنانے میں مدد دی۔
یہ بات انہوں نے وزارت اطلاعات و نشریات کے ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ کے زیر اہتمام ”Truth Beyond Borders” کے عنوان سے منعقدہ ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ گزشتہ سال کشیدگی کے دوران درست اور مصدقہ معلومات کو بروقت متعلقہ حلقوں تک پہنچانے کے لئے حکومت نے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال انتہائی تیزی سے بدل رہی تھی اور معلومات کا بہائو بھی بہت زیادہ تھا، اس لئے ہمیں نہ صرف معلومات کی تصدیق کے لئے اپنے تمام وسائل بروئے کار لانا پڑے بلکہ یہ بھی یقینی بنانا تھا کہ درست معلومات وقت پر درست حلقوں تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال سرحدی کشیدگی کے دوران وزارت اطلاعات و نشریات کے تمام شعبوں اور محکموں کو موثر ردعمل اور مستند معلومات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کیلئے متحرک کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مس انفارمیشن اور فیک نیوز کے موثر مقابلے میں پاکستان کی کامیابی کی ایک اہم وجہ سول و عسکری قیادت کے درمیان مضبوط ہم آہنگی اور وزارت اطلاعات و نشریات اور پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے درمیان قریبی رابطہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس معلومات کا انتہائی موثر اور منظم نظام موجود تھا اور ہم درست معلومات بروقت میڈیا تک پہنچا رہے تھے۔ وفاقی وزیر نے کشیدگی کے دوران ذمہ داری اور یکجہتی کا مظاہرہ کرنے پر پاکستان کے میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین کو خراج تحسین پیش کیا۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ تمام متعلقہ فریقین بشمول عوام کے درمیان مکمل اتحاد موجود تھا اور پوری قوم مسلح افواج اور حکومت کے شانہ بشانہ کھڑی رہی۔ انہوں نے کہا کہ قومی سطح پر مشترکہ ردعمل نے پاکستان کو ملکی اور عالمی سطح پر اپنا بیانیہ موثر انداز میں مضبوط بنانے میں مدد دی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اتحاد و یکجہتی کی ایک عمدہ مثال موجود تھی جس کے باعث ہم مقامی اور عالمی سطح پر اپنے بیانیے کو موثر انداز میں پیش کرنے میں کامیاب رہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ جو معلومات فراہم کی جا رہی تھیں وہ مصدقہ، درست اور حقائق پر مبنی تھیں، اسی وجہ سے پاکستان زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آیا جبکہ مخالف فریق موثر ترجمانوں اور بین الاقوامی میڈیا تک موثر رسائی سے محروم تھا۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ کشیدہ صورتحال میں کامیابی کا انحصار تمام متعلقہ فریقین کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور تعاون پر ہوتا ہے جبکہ درست معلومات کو مناسب پلیٹ فارمز کے ذریعے بروقت عام کرنا بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو ہم نے آدھے گھنٹے کے اندر اندر عالمی میڈیا پر اپنا موقف پیش کیا جبکہ مقامی ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو براہ راست معلومات فراہم کیں۔
بروقت معلومات کی فراہمی موثر ادارہ جاتی تعاون اور آئی ایس پی آر کی معاونت سے ممکن ہوئی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے فیکٹ چیکنگ فورمز اور تصدیقی نظام بھی قائم کئے جنہوں نے جعلی خبروں اور گمراہ کن معلومات کے تدارک میں اہم کردار ادا کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے پہلے ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کے قیام نے ملک کی ڈس انفارمیشن کے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت کو نمایاں طور پر بہتر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس مناسب وسائل اور نظام موجود تھے، جب ہم نے ان نظاموں کو استعمال کیا تو ہم بھرپور کامیابی کے ساتھ سرخرو ہوئے۔








