ملک محمد احمد خاں 39

لاہور کو چائلڈ فرینڈلی سٹی میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ‘ ملک محمد احمد خاں

لاہور(رپورٹنگ آن لائن )اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے کہا ہے کہ لاہور کو چائلڈ فرینڈلی سٹی میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ بچوں کو محفوظ، صحت مند اور سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے،پاکستان کی 40فیصد سے زائد آبادی بچوں پر مشتمل ہے، اس لیے شہری منصوبہ بندی میں بچوں کی ضروریات کو مرکزی حیثیت دینا ناگزیر ہے۔سپیکر ملک محمد احمد خاں لاہور میں یونیسف اور لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے درمیان چائلڈ فرینڈلی سٹی منصوبے کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو)پر دستخط کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

تقریب میں ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق اور یونیسف پاکستان کی نمائندہ پرنیل آئرنسائیڈ نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر پرائمری صحت خواجہ عمران نذیر، وائس چیئرمین ایل ڈی اے میاں مرغوب احمد، چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ، چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو سارہ احمد اور چیئرپرسن پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی جہاں آرا وٹو بھی شریک تھیں، جبکہ یونیسف پاکستان کی نمائندہ پرنیل آئرنسائیڈ کی خصوصی شرکت بھی تقریب کا حصہ تھی۔ سپیکر ملک محمد احمد خاں نے اس اقدام کو تاریخی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ لاہور اس منصوبے کے ذریعے پاکستان کا پہلا چائلڈ فرینڈلی شہر بننے کی جانب گامزن ہے، جو پائیدار ترقی کے عالمی اہداف کے حصول میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ شہری ترقی صرف عمارتوں اور سڑکوں تک محدود نہیں بلکہ یہ بچوں کے محفوظ مستقبل، بہتر تعلیم، صحت اور سماجی نشوونما سے جڑی ہوئی ہے۔

سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ بچوں پر سرمایہ کاری درحقیقت ملک کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے، جو بہتر معاشی ترقی اور سماجی استحکام کی بنیاد بنتی ہے۔ انہوں نے شہری مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی شہر کے کئی علاقوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے، کہیں فٹ پاتھ موجود نہیں، کہیں صاف پانی کی کمی ہے جبکہ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث شہری زندگی متاثر ہو رہی ہے۔ سپیکر ملک محمد احمد خاں نے وزیر اعلی پنجاب کیستھرا پنجاب پروگرامکو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات شہر کی بہتری کے لیے نہایت اہم ہیں، تاہم بڑے منصوبوں کی کامیابی کے لیے نجی شعبے کی شمولیت بھی ضروری ہے۔ سپیکر ملک محمد احمد خاں نے مزید کہا کہ سیف سٹی جیسے منصوبے نہ صرف سیکیورٹی بلکہ بچوں کی سماجی نشوونما اور صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں اور یہ پورے لاہور کے لیے ہیں، تاہم ان کا قیام ایک چیلنجنگ عمل ہے۔سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ تیز رفتار زندگی کے اس دور میں بچوں کو محفوظ اور متوازن ماحول فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ تقریب میں سائن لینگویج کو اہمیت دی گئی اور بچوں کی جانب سے سائن لینگویج میں قومی ترانے کی پیشکش ایک خوش آئند اقدام تھا جو معاشرتی شمولیت کی عکاسی کرتا ہے۔سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مثر قانون سازی کر رہی ہے، جس میں کم عمری کی شادی کے خلاف قانون ایک اہم سنگ میل ہے، جبکہ چائلڈ رائٹس کاکس اور خصوصی افراد کے کاکس فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیٹا پر مبنی پالیسی سازی کے ذریعے ہی بچوں کے بہتر اور محفوظ مستقبل کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی پر زور دیا کہ شہر میں ایکسیسبیلٹی کو یقینی بنانے کے لیے اسکولوں، ہسپتالوں، پارکوں اور دیگر عوامی مقامات کا جامع آڈٹ کیا جائے، جبکہ منصوبے کی شفافیت کے لیے اہداف اور ٹائم لائنز عوام کے سامنے لائی جائیں۔ سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ اگر اس منصوبے پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے تو لاہور ایک ماڈل چائلڈ فرینڈلی شہر بن سکتا ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے دیگر شہروں کے لیے بھی مثال بنے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں