شیخ رشید 198

فوجی قلندرز کی اسٹرٹیجی پانچ ، دس سال کی نہیں بیس سال کی ہوتی ہے ،شیخ رشید

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن) وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ فوجی قلندرز کی اسٹرٹیجی پانچ ، دس سال کی نہیں بیس سال کی ہوتی ہے ، مجھے یقین ہے کہ پاک فوج پاکستان کی سالمیت، مستقبل اور قومی معاملات کو بخوبی سمجھتی ہے ، اپوزیشن جماعتیں ملاقاتیں اور گزارشات کر رہی ہیں ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکلنا، وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد لے آئیں، ناکامی ان کا مقدر ہے، عمران خان اور جہانگیرترین پرانے ساتھی ہیں، دوستوں میں اختلافات ہو جاتے ہیں، سیاست دان کبھی دروازے بند نہیں کرتا۔

اپوزیشن کہتی ہے کارڈچھپائے ہیں، عمران خان بھی چھاتی سے کارڈ لگا کر کھیلتا ہے، ایم کیوایم اور ق لیگ ہمارے اتحادی ہیں ، ہو سکتا ہے اپوزیشن کی بے وقوفیوں پر تاریخ لکھی جائے، انتشار اور خلفشار ان کے گلے پڑے گا، الیکشن میں ایک سال رہ گیا، انتخابی سرگرمیاں شروع ہو گئی ہیں ۔ منگل کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کل روس کے تاریخی دورے پر جا رہے ہیں، وزیراعظم عمران خان روس سے واپسی پر پاکستان ای پاسپورٹ کا افتتاح کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں رینجرز کی تعیناتی کو بڑھانے کےلئے تیار ہیں، ہم تھانوں میں بھی رینجرز دینے کو تیار ہیں، سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ جو تعاون ہم سے مانگیں گے ہم دینے کو تیار ہیں، 27 سال بعد آسٹریلیا کرکٹ ٹیم پاکستان آرہی ہے اور کرکٹ کے آخری دنوں میں پیپلز پارٹی جو مظاہرہ کر رہی ہے ہم توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داری کا ثبوت دے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم 13نئے پاسپورٹ آفس سندھ میں کھولنے جا رہے ہیں جو کہ پاکستان کی ایک مثال ہے، یاد رکھیں کہ جب بھی تحریکیں چلی ہیں،خواہش کے مطابق اس کے نتیجے نہیں ملے، اگر آپ تحریک عدم اعتماد لائے تو آپ کو اس میں ناکامی ملے گی کیونکہ نامی آپ کا مقدر ہے،آپ ساڑھے تین سال سے لگے ہوئے ہیں کہ آج آ رہے ہیں کل آ رہے ہیں،172ممبران لانا آپ کا کام ہے بعد میں آپ کہیں گے کہ کورونا ہو گیا تھا فون آ گیا تھا، آپ خود فیصلہ کریں کہ کیا کرنا ہے۔

شیخ رشید احمد نے کہا کہ اسلام آباد میں ماڈرن لیڈیز شاپنگ سینٹر بنائے جا رہے ہیں جو خواتین اس میں دلچسپی رکھتی ہیں وہ ڈی سی اسلام آباد کو اپنی درخواست جمع کرا سکتی ہیں، میرٹ پر اس کافیصلہ ہو گا، ایف سکس اسلام آباد میں پولیس کا ہائی لیول کا خدمت مرکز قائم کیا جا رہا ہے جس میں کچھ دنوں بعد خود قیام کروں گا، اس میں 28سروسز دی جا رہی ہیں جو پاکستان کی تاریخ کا ایک حصہ ہے، 23مارچ کو اگر اپوزیشن آنا چاہے تو آ جائے22اور 23کو وزرائے خارجہ کی کانفرنس ہو گی اور اگر اپوزیشن کہتی ہے کہ ہم نے کارڈ چھپائے ہیں تو عمران خان نے بھی چھاتی کے ساتھ کارڈ کھیلتا ہے، آپ جو ملاقاتیں کر رہے ہیں اس سے کچھ بھی نہیں نکلنا ایک سال رہ گیا ہے، اپوزیشن تحریک عدم اعتماد کا ووٹ لائے گی تب بھی پھنسے گی اور اس کے نتیجے میں بھی پھنسے گی، دنیا کہاں جا رہی ہے دنیا کے حالات کیا ہیں ان کو عقل کے ناخن لینے چاہئیں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کی بے وقوفیوں کی وجہ سے تاریخ لکھی جائے، پھر یہ کہیں گے کہ فون کالز آگئی تھی، کسی فون کال کی ضرورت نہیں ہے، عمران خان اس سیاسی لڑائی میں سرخرو ہوں گے۔

صحافیوں کے سوالوں پر جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ میری پچھلے پانچ سالوں سے جہانگیر ترین سے ملاقات نہیں ہوئی، میرے نزدیک وہ اچھے انسان ہیں، سیاسی بندے ہیں، تحریک انصاف دوسرے بندوں سے رابطہ کر رہی ہے، ایم کیو ایم اور (ق) لیگ ہماری اتحادی پارٹی ہے، جہانگیر ترین کے حوالے سے بات کروں تو مجھے امید ہے کہ جہانگیر ترین اپنی ذمہ داری کا ثبوت دیں گے، میں عمران خان کا ساتھی ہوں اور فیصلہ عمران خان کا ہے، لیکن اگر کوئی مجھ سے پوچھے تو میں کہوں گا کہ مجھ سے کسی نے نہیں پوچھا اور میں کہوں گا کہ جہانگیر ترین سے بھی بات ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیاستدان کبھی دروازے بند نہیں کرتا، اگر نون لیگ چودہ سال بعد (ق) لیگ کی جانب جاتی ہے تو عمران خان اور جہانگیر ترین پرانے ساتھی ہیں، دوستوں میں اختلافات ہوتے رہتے ہیں لیکن اختلافات کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ دوستوں میں لاتعلقی ہو جائے، میں معذرت چاہتا ہوں تحریک انصاف مجھ سے ناراض نہ ہو کیونکہ میں سیاسی رائے دینے میں آزاد ہوں،

یہ میری سیاسی رائے ہے کسی کو مجبور نہیں کر رہا، اگر آپ نے نہیں ملنا ہو تو نہ ملیں۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ پاک فوج ایک عظیم ادارہ ہے، پاک فوج کے جوان نوشکی، پنجگور اور بلوچستان کے بارڈرز پر آپ لوگوں کےلئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں وہ اس لئے نہیں جان دے رہے کہ اس ملک میں انتشار ہو، یہ فوج دنیا کی عظیم فوج ہے وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ملک میں کوئی انتشار ہوتا ہے تو ہم حکومت کے ساتھ ہیں،میں پچاس سال سے سیاست میں ہوں، فوجی قلندرز کی اسٹرٹیجی پانچ ، دس سال کی نہیں بلکہ بیس سال کی ہوتی ہے، مجھے یقین ہے کہ پاک فوج پاکستان کی سالمیت، مستقبل اور قومی معاملات کو بخوبی سمجھتی ہے، بہت بڑا ظلم ہے کہ اطہر متین کا قتل ہوا، اطہر متین ایک عظیم آدمی تھا، اگر مراد علی شاہ کہیں تو رینجرز تھانوں میں بھی دینے کو تیار ہیں، کل کراچی کے حالات کو دیکھا وہ ناگفتہ بے ہیں، مجھے ایسے نظر آرہا ہے کہ کراچی میں کوئی قانون نہیں رہا اور اس کے برے نتیجے نکل سکتے ہیں،ہم اسلام آباد میں دفعہ 144لگا رہے ہیں، اگر کوئی مالکان کرائے دار رکھ رہے ہیں تو ان پر لازم ہے کہ کرائے دار کا ڈیٹا تھانے میں جمع کرائیں، پولیس پوری ذمہ داری سے کام کر رہی ہے اور وہ اپنی ذمہ داری پر بھی پورا اترے گی، بلاول زرداری اگر آرہے ہیں تو شوق سے آئیں، ہماری کوشش ہو گی کہ ہماری انتظامیہ شیڈول کو طے کرے،

ملک کے حالات اور انٹرنیشنل سیاست کو سمجھیں، اسلام آباد میں سات آٹھ کو میچ ہے، ہم نے کو آرڈینیشن کمیٹی بنا دی ہے جو راولپنڈی اور اسلام آباد کی انتظامیہ آج کے بعد ڈی کمپلیفائی کرے گی اور ہم نے راولپنڈی انتظامیہ کو اسلام آباد کی سیف سٹی تک رائی دے دی گئی ہے، ہم نے ایک اور فیصلہ کیا کہ اسلام آباد میں پاکستان کا جدید کرکٹ سٹیڈیم بنانے جا رہے ہیں جس کے ساتھ فائیو سٹار ہوٹل ہو گا اور تین پلاٹس ہسپتالوں کےلئے اجراءکیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں