حافظ نعیم الرحمن 11

عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ، پٹرولیم لیوی ختم کی جائے’حافظ نعیم الرحمن

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی، پٹرولیم لیوی، ناجائز ٹیکسوں اور آئی پی پیز کے بوجھ تلے دبے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، حکومت نے فوری طور پر عوام کو ریلیف نہ دیا تو جماعت اسلامی احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے ملک گیر ہڑتال، سڑکوں کی بندش اور اسلام آباد مارچ سمیت ہر آپشن استعمال کرے گی۔

وزیراعلیٰ ہاؤس لاہور کے باہر جاری دھرنے کے مقام پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کے ملک گیر دھرنے دسویں روز میں داخل ہو چکے ہیں اور چاروں صوبوں میں عوام کی شرکت مسلسل بڑھ رہی ہے۔قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ، ڈپٹی سیکرٹری رسل خان بابر، امیر لاہور ضیا الدین انصاری، امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری اور سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ یہ منظم اور پُرامن احتجاج عوامی حقوق کی جدوجہد ہے جو مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 13 ربیع الاول کو ملک گیر ہڑتال کی تاریخ دی جائے گی جبکہ عید میلاد النبیۖ کی تقریبات بھی دھرنوں کے مقامات پر منائی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور نظام چلانے والے مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں اور عوام پر مسلسل نئے بوجھ ڈالے جا رہے ہیں۔

دنیا کے کئی ممالک نے جنگی حالات میں بھی پٹرول کی قیمتوں میں معمولی اضافہ کیا، لیکن پاکستان کے حکمرانوں نے جنگ کو بھی کمائی کا ذریعہ بنا لیا اور پٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی اور ٹیکس عائد کر کے عوام کا استحصال کیا جا رہا ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم لیوی اور تمام جعلی ٹیکس فوری طور پر ختم کیے جائیں، عوام کو ریلیف دیا جائے اور روٹی کی قیمت دس روپے مقرر کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بائیکیا چلانے والے، طلبہ، مزدور اور مسافر سب مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں جبکہ حکمران اپنی شاہ خرچیوں اور اخراجات میں اضافہ کر رہے ہیں۔انہوں نے آئی پی پیز کے معاملات پر بھی سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ درآمدی کوئلے میں بے قاعدگیوں کے شواہد سامنے آئے ہیں اور پاور ڈویژن خود ان بے ضابطگیوں کا اعتراف کر چکا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کوئلے کی درآمدات اور آئی پی پیز کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے کہ کن عناصر نے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا۔

ان کا کہنا تھا کہ نہ بننے والی بجلی، مہنگے فیول اور غیر شفاف معاہدوں کا سارا بوجھ عوام اٹھا رہے ہیں، جبکہ حکومت کے اپنے لوگ ان معاملات میں ملوث ہو سکتے ہیں۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی کی ماضی کی تحریکوں کے نتیجے میں بجلی کے نرخوں میں دس روپے فی یونٹ کمی ہوئی اور عوامی دباؤ ہی حکومت کو فیصلے تبدیل کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ اگر موجودہ حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو احتجاج مزید شدت اختیار کرے گا۔سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ فارم 47 کی پیداوار عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اور عوامی طاقت کے بغیر وجود میں آنے والی حکومتیں ہمیشہ کمزور ثابت ہوتی ہیں۔ پنجاب میں ایک خاندان کی اجارہ داری قائم ہے، سندھ میں پیپلز پارٹی نے صوبے کو تباہ کر دیا ہے اور کئی برس گزرنے کے باوجود بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے جا سکے۔انہوں نے پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری اسکولوں کی آؤٹ سورسنگ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 11 ہزار اسکولوں کی نجکاری دراصل حکومت کی اپنی ذمہ داریوں سے فرار کی کوشش ہے۔

ناکام پالیسیوں نے زراعت کو بھی تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے جبکہ عوام کے پیسوں سے اشتہاری مہمات چلائی جا رہی ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی ذاتی مفادات کے لیے نہیں بلکہ 25 کروڑ عوام کے حقوق کے لیے میدان میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی ہے، جماعت اسلامی کسی کمیٹی کی بریفنگ لینے اسلام آباد نہیں جائے گی۔ کمیٹی دھرنے کے مقام پر آئے اور واضح کرے کہ پٹرولیم لیوی کب ختم کی جائے گی اور عوام کو کس طرح ریلیف دیا جائے گا۔سرحد یونیورسٹی کے معاملے پر پوچھے گے سوال پر انہوں نے کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے اور میرٹ کی بنیاد پر تحقیقات کے بعد کارروائی عمل میں لائی جائے، چاہے کوئی کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں