اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ علاقائی امن کے فروغ اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو عالمی سطح پر غیر معمولی پذیرائی ملی ہے ،تاہم ان کامیابیوں کو پائیدار معاشی ثمرات میں تبدیل کرنے کے لیے برآمدات پر مبنی معیشت کی تشکیل ناگزیر ہے۔
بدھ کو امریکا ایران جنگ کے بعد: پاکستان کے لیے امن اور معاشی ثمرات کے موضوع پر منعقدہ کانکلیو اور گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو اپنی سفارتی اور دفاعی کامیابیوں کو معاشی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور برآمدات میں اضافے کے مواقع میں تبدیل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط دفاع کی بنیاد مضبوط معیشت ہے ، پائیدار معاشی بنیادوں کے بغیر قومی سلامتی اور ترقی کے ثمرات دیرپا نہیں ہو سکتے۔پروفیسر احسن اقبال نے دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والے عالمی نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی اداروں کو موجودہ دور کی ابھرتی ہوئی حقیقتوں اور بدلتے ہوئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق خطہ اس وقت بحران اور تنازعات سے گزر رہا ہے جبکہ مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی علاقائی امن، استحکام اور معیشت کے لیے سنگین چیلنج بن سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لیبیا، عراق اور شام سمیت مشرق وسطی کے مختلف حصوں میں طویل عرصے سے جاری عدم استحکام کے اثرات اب پاکستان کے قریب آتے دکھائی دے رہے ہیں، ایران، خلیجی خطے اور سعودی عرب سے متعلق پیش رفت کے تناظر میں جنگ کے خطرات کو کم کرنے اور علاقائی امن کے لیے سفارتی کوششوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان تنازعے کے دوران پاکستان کی سفارتی کوششوں بالخصوص پاکستانی سفارت خانے کے کردار نے ملک کو عالمی توجہ کا مرکز بنایا۔ ان کے مطابق پاکستان کے کردار کو عالمی سیاسی قیادت کے علاوہ الجزیرہ، بی بی سی، سی این این، برطانوی اور یورپی نشریاتی اداروں سمیت جاپانی اور چینی میڈیا نے بھی اجاگر کیا۔انہوں نے گزشتہ جولائی میں اپنے دورہ امریکا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے ارکان، جامعات کے سربراہان، کاروباری شخصیات اور عام شہریوں سے ملاقاتوں کے دوران انہوں نے پاکستان کے بارے میں عالمی رائے عامہ میں تبدیلی محسوس کی۔ ان کے مطابق ان ملاقاتوں میں اکثر ابتدائی گفتگو پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہنے سے شروع ہوتی تھی۔پروفیسر احسن اقبال نے بھارت کے ساتھ کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے 2025 میں یہ اندازہ لگایا تھا کہ پاکستان کی معاشی مشکلات اس کی دفاعی صلاحیتوں اور قومی عزم کو متاثر کر سکتی ہیں ،تاہم ان کے بقول فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کے دفاعی اداروں نے بھارتی اقدامات کا موثر جواب دیا اور معرکہ حق میں کامیابی حاصل کی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کا بنیادی معاشی چیلنج ملک کو برآمدات پر مبنی معیشت میں تبدیل کرنا ہے، جاپان، جنوبی کوریا، ملائیشیا، ویتنام، چین، بنگلہ دیش، بھارت اور ترکیہ سمیت متعدد ممالک نے برآمدات کے فروغ کے ذریعے اپنی معیشتوں کو مستحکم کیا اور عالمی منڈیوں میں اپنا حصہ بڑھایا۔انہوں نے پاکستان اور ویتنام کی برآمدات کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ 1990 میں پاکستان کی برآمدات تقریبا 6 ارب ڈالر جبکہ ویتنام کی 9 ارب ڈالر تھیں تاہم آج ویتنام کی برآمدات تقریبا 425 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں جبکہ پاکستان کی اشیا اور خدمات کی مجموعی برآمدات تقریبا 40 ارب ڈالر ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بار بار پیدا ہونے والے معاشی اتار چڑھائو سے نکلنے کے لیے برآمدات میں اضافے، پیداواری صلاحیت بہتر بنانے، صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ پر توجہ دینا ہوگی، ماضی میں بیرونی مالی معاونت کے ذریعے وقتی معاشی مشکلات پر قابو پانے کی کوششیں کی گئیں تاہم برآمدی صلاحیت بڑھانے کے لیے ضروری پیداواری سرمایہ کاری پر مطلوبہ توجہ نہیں دی جا سکی۔پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ اڑان پاکستان کے تحت 2035 تک برآمدات 100 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف معاشی خودمختاری کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے،
اس مقصد کے حصول کے لیے عالمی اور علاقائی منڈیوں میں دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانے اور جغرافیائی سیاسی حکمت عملی کو جغرافیائی معاشی تعاون سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ علاقائی سلامتی کے موثر نظام اور ممالک کے درمیان معاشی تعاون و باہمی انحصار کو فروغ دے کر پائیدار امن اور استحکام کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے، پاکستان کو بدلتے ہوئے عالمی حالات اور جغرافیائی معاشی مواقع کو مدنظر رکھتے ہوئے قابل عمل ترقیاتی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ قومی اہداف کو نئی علاقائی اور عالمی حقیقتوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ خطے میں امن معاشی ترقی کے لیے بنیادی شرط ہے اور حکومت و مسلح افواج خطے کو مزید کشیدگی اور تصادم سے محفوظ رکھنے کے لیے کوششیں کر رہی ہیں،
قومی یکجہتی، داخلی استحکام اور علاقائی امن کو مضبوط بنانا ملکی ترقی کے تسلسل کے لیے ضروری ہے۔پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو روایتی دفاع کے ساتھ غیر روایتی چیلنجز سے نمٹنے اور اندرونی استحکام کے تحفظ کے لیے بھی موثر اقدامات کرنا ہوں گے، بلوچستان سمیت ملک کے کسی بھی حصے میں عدم استحکام کی کوششوں کو ناکام بنانا قومی ترقی اور معاشی سرگرمیوں کے تسلسل کے لیے اہم ہے۔وفاقی وزیر نے کانفرنس کے شرکا پر زور دیا کہ وہ موجودہ جغرافیائی سیاسی اور معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کے مستقبل کے ترقیاتی ایجنڈے کے لیے قابلِ عمل سفارشات پیش کریں تاکہ اڑان پاکستان کے اہداف کو موثر انداز میں آگے بڑھاتے ہوئے سفارتی کامیابیوں کو پائیدار معاشی ترقی میں تبدیل کیا جا سکے۔








