سندھ ہائی کورٹ 6

عدالت نے کسٹمز اینٹی اسمگلنگ آرگنائزیشن کا مقدمہ کالعدم قرار دیدیا

کراچی (رپورٹنگ آن لائن)سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے کسٹم حکام کی پیٹرولیم مصنوعات سے منسلک نجی کمپنیوں کیخلاف کارروائیوں کیخلاف درخواست کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

عدالت نے کسٹمز اینٹی اسمگلنگ آرگنائزیشن کا مقدمہ کالعدم قرار دیدیا۔ عدالت نے ضبط شدہ ضبط شدہ ڈیزل، ٹینکرز اور سیل شدہ املاک واپس کرنے کا حکم دیدیا۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مقدمہ کا اندراج چار روز تاخیر سے کیا گیا۔ مقدمے میں بنیادی تقاضوں جرم کی تاریخ اور وقت درج نہیں۔ کسٹمز ایکٹ کے تحت سرچ وارنٹ حاصل کرنا لازمی ہے۔ صرف ہنگامی حالات میں بغیر وارنٹ محدود کارروائی کی جاسکتی ہے۔ ٹینکرز ضبطگی کے لئے ہنگامی اختیارات استعمال کئے جاسکتے تھے۔

بعد کی کارروائیوں کے لئے کسٹمز نے مجسٹریٹ سے سرچ وارنٹ حاصل نہیں کیا۔ بغیر سرچ وارنٹ کارروائی سے قانونی کارروائی مشکوک ہوگئی۔ کسٹمز نے ڈلیوری آرڈر کے اجرا کرنے والے اداروں کے افسران کے بیانات قلمبند نہیں کیئے۔ بادی النظر میں درخواستگزاروں کے پیش کردہ دستاویز قانونی ثابت ہوتے ہیں۔ کسٹمز حکام پیٹرولیم مصنوعات غیر قانونی ذرائع سے حصول ثابت نہیں کرسکے۔ سرکاری اداروں پر اختیارات قانون کے مطابق استعمال کرنا لازم ہے۔ کسٹمز حکام کا سرچ، ضبطگی اور تفتیش قانون سے مطابقت نہیں رکھتی۔ کسٹمز حکام ضبط شدہ ڈیزل اور سیل کی گئی املاک درخواست گزاروں کے حوالے کریں۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا تھا کہ کسٹمز حکام نے درخواست گزاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا۔

درخواست گزاروں کیخلاف 8 لاکھ 90 ہزار لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل منتقل کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ تمام لین دین سرکاری نیلامی اور قانونی ادائیگی کے ذریعے کیا گیا۔ کسٹمز اہلکار متعدد بار بغیر سرچ وارنٹ کمپنی احاطے میں داخل ہوئے۔ کسٹم حکام کا کہنا تھا کہ کیماڑی میں دو آئل ٹینکرز کو روک تک تلاشی لی گئی۔ڈرائیوروں نے ڈلیوری آرڈرز کو دوبارہ استعمال کرنے کا اعتراف کیا۔ سرکاری وکیل نے موقف اپنایا تھا کہ درخواستگزار کمپنی غیر قانونی پیٹرولیم کی خرید وفروخت میں ملوث ہے۔ کسٹمز حکام کی کارروائی قانون کے مطابق تھی۔ فوری کارروائی کے دوران سرچ وارنٹ حاصل کرنا ممکن نہیں تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں