سید یوسف رضا گیلانی 31

عالمی یوم آزادی صحافت معلومات تک رسائی اور جمہوری اقدار کو فروغ دینے کے تازہ عزم کی علامت ہے، سید یوسف رضا گیلانی

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ 3 مئی عالمی سطح پر آزادیِ صحافت، آزادیِ اظہار، معلومات تک رسائی اور جمہوری اقدار کو فروغ دینے کے تازہ عزم کی علامت ہے،پاکستان کے آئین میں آزادیِ اظہار اور آزادیِ صحافت کی ضمانت دی گئی ہے اور سینیٹ آف پاکستان نے ان آئینی حقوق کی حفاظت اور صحافیوں کی فلاح و بہبود کو فروغ دینے میں ہمیشہ فعال کردار ادا کیا ہے۔

سینیٹ سیکرٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق عالمی یومِ آزادیِ صحافت کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضاگیلانی نے کہا کہ عالمی یومِ آزادیِ صحافت 1993 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کے بعد قائم کیا گیا تھا اور تب سے دنیا بھر میں اس دن کو صحافیوں کے کردار کو اجاگر کرنے، ان کی قربانیوں کو تسلیم کرنے اور آزاد صحافت کی اہمیت پر زور دینے کے لیے منایا جاتا ہے۔چیئرمین سینیٹ نے زور دیا کہ آزاد، ذمہ دار اور بااختیار میڈیا کسی بھی جمہوری معاشرے کا ناگزیر ستون ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ نہ صرف عوام کو بروقت اور قابلِ اعتبار معلومات فراہم کرتا ہے بلکہ شفافیت، احتساب، سماجی انصاف کو یقینی بنانے اور قومی بیانیے کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ دن صحافت کے بنیادی اصولوں کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ صحافیوں اور میڈیا تنظیموں کو درپیش چیلنجز، جن میں پیشہ ورانہ دباؤ اور سیکیورٹی کے مسائل شامل ہیں، کی طرف توجہ مبذول کرتا ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر کے صحافیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہوں نے ان کی خدمات اور قربانیوں کی تعریف کی اور کہا کہ صحافیوں کی حفاظت، آزادی اور پیشہ ورانہ آزادی جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین میں آزادیِ اظہار اور آزادیِ صحافت کی ضمانت دی گئی ہے اور سینیٹ آف پاکستان نے ان آئینی حقوق کی حفاظت اور صحافیوں کی فلاح و بہبود کو فروغ دینے میں ہمیشہ فعال کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایوانِ بالا نے قانون سازی، قراردادوں اور پارلیمانی بحثوں کے ذریعے صحافیوں کی حفاظت، معلومات تک رسائی کو بہتر بنانے اور آزادیِ اظہار کو برقرار رکھنے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ صحافیوں کے خلاف تشدد، ہراسانی، دھمکی اور کوئی بھی غیر جمہوری پابندیاں ناقابلِ قبول ہیں اور انہیں سختی سے روکا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ آج کے تیز رفتار معلوماتی دور میں جہاں جعلی خبروں، پروپیگنڈے اور غلط معلومات جیسے چیلنجز بڑھ رہے ہیں،ذمہ دار، اصول پسند اور قومی شعور رکھنے والی صحافت کی ضرورت اور بھی زیادہ اہم ہو گئی ہے۔انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ سچائی، تحقیق، توازن اور قومی ذمہ داری کو برقرار رکھیں اور معاشرے میں تعمیری اور مثبت گفتگو کو فروغ دیں۔انہوں نے یقین دلایا کہ پارلیمنٹ، خصوصاً سینیٹ، جمہوریت کو فروغ دینے، آئینی برتری کو برقرار رکھنے اور پاکستان میں آزادیِ صحافت اور آزادیِ اظہار کو مضبوط بنانے میں فعال اور مؤثر کردار ادا کرتی رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں