سندھ ہائی کورٹ 7

سندھ ہائی کورٹ،ایچ آئی وی پازیٹو سے بچوں کی ہلاکت کے معاملے سے متعلق کیس: سرکاری رپورٹ عدالت میں پیش

کراچی(رپورٹنگ آن لائن ) سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کی ہلاکتوں اور وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق دائر درخواست کی سماعت کے دوران حکومت سندھ کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ ریکارڈ کا حصہ بنا لی، جبکہ آئی جی سندھ کو 11 اگست تک اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔

جسٹس عدنان الکریم میمن کی سربراہی میں آئینی بینچ کے روبرو سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے حکومت سندھ کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی روک تھام اور متاثرہ بچوں کی دیکھ بھال کے لیے متعدد عملی اقدامات کیے جا چکے ہیں، اس لیے درخواست اب غیر مؤثر ہو چکی ہے۔سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ متاثرہ بچوں کے علاج اور معاونت کے لیے 2 ارب روپے کا انڈومنٹ فنڈ مختص کیا جا چکا ہے، 37 ذمہ دار افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے، جبکہ متاثرہ بچوں کے علاج کے لیے تھراپی سینٹرز بھی قائم کیے جا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وائرس کے مزید پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے بھی ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں، لہٰذا درخواست نمٹا دی جائے۔درخواست گزار کے وکیل طارق منصور ایڈووکیٹ نے حکومتی مؤقف کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ حکومت خود اعتراف کر چکی ہے کہ مزید 120 بچوں میں ایچ آئی وی وائرس کی تشخیص ہوئی ہے، تاہم تاحال آئی جی سندھ کی رپورٹ عدالت میں پیش نہیں کی گئی۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ وائرس کے پھیلاؤ کے ذمہ دار افراد کے خلاف باقاعدہ مقدمات درج ہونے چاہئیں، لیکن حکومت صرف محکمانہ کارروائی تک محدود رہ کر معاملے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے مزید کہا کہ 2025 کا متعلقہ ریکارڈ فراہم نہیں کیا جا رہا، جبکہ اطلاعات ہیں کہ بعض اہم ریکارڈ کو غائب کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ حکومت سندھ کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے اور ذمہ داران کے خلاف فوجداری کارروائی کی ہدایت دی جائے۔اس موقع پر جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار حکومت سندھ کے خلاف ایف آئی آر درج کروانا چاہتے ہیں۔ عدالت نے آئی جی سندھ کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت پر 11 اگست تک اپنی تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔

درخواست میں چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری صحت، سیکریٹری لیبر سندھ، کمشنر سیسی اور کلثوم بائی ولیکا اسپتال کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق صوبے میں تقریباً 200 بچے ایچ آئی وی سے متاثر ہیں اور بیماری کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات میں استعمال شدہ سرنجوں اور انجیکشنز کا دوبارہ استعمال شامل ہے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی سے متاثرہ آٹھ بچوں کی ہلاکت ہو چکی ہے، لہٰذا واقعے کی مکمل تحقیقات کر کے ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے اور استعمال شدہ انجکشنز کے دوبارہ استعمال کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں