سندھ ہائی کورٹ 75

سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ میں کے الیکٹرک کے سابق سی ای او مونس علوی کے خلاف خاتون کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے سے متعلق کیس کی سماعت

کراچی (رپورٹنگ آن لائن) سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ میں کے الیکٹرک کے سابق سی ای او مونس علوی کے خلاف خاتون کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

درخواست گزار، کے الیکٹرک کی سابق افسر مہرین عزیز خان کی جانب سے گورنر سندھ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر سماعت کے دوران کے الیکٹرک کے سابق سی ای او کی جانب سے کوئی پیش نہ ہو سکا۔عدالت نے عدم پیشی پر کے الیکٹرک کے سابق سی ای او سمیت دیگر فریقین کو ایک بار پھر نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 18 مئی تک ملتوی کردی۔

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل جبران ناصر ایڈووکیٹ نے مقف اختیار کیا کہ صوبائی محتسب نے سابق سی ای او کو ہراسانی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے 25 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا تھا، تاہم گورنر سندھ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ہراسانی کی تشریح سپریم کورٹ کے فیصلوں کے برعکس کی۔

وکیل درخواست گزار کے مطابق اہم شواہد اور منفی ورک پلیس ماحول کو نظر انداز کیا گیا، جبکہ شکایت درج کرانے کے ایک ماہ بعد درخواست گزار کو ملازمت سے برطرف کرنا انتقامی کارروائی تھی۔انہوں نے مزید مقف اپنایا کہ کے الیکٹرک کے سابق سی ای او کے وکلا دیگر کیس میں گورنر سندھ کے وکیل بھی ہیں، جس سے مفادات کے ٹکرا کا پہلو بھی سامنے آتا ہے، تاہم گورنر سندھ نے اس نکتے کو بھی مدنظر نہیں رکھا۔درخواست گزار کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی کہ گورنر سندھ کا حکم غیر قانونی قرار دیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں