سندھ ہائی کورٹ 7

سندھ میں اساتذہ کی بھرتیوں کا معاملہ، سندھ ہائی کورٹ کاامیدواروں کی شکایات 2 ماہ میں دور کرنے کا حکم

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)سندھ ہائیکورٹ نے صوبے میں اساتذہ کی بھرتیوں سے متعلق پالیسی پر عمل درآمد کے معاملے میں ایک سو سے زائد امیدواروں کی شکایات سن کر متعلقہ کمیٹی کو دو ماہ میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ سندھ ہائیکورٹ میں صوبے میں اساتذہ کی بھرتیوں سے متعلق پالیسی پر عمل درآمد سے متعلق ایک سو سے زائد امیدوار اساتذہ کی جانب سے دائر توہین عدالت کی درخواست کی سماعت ہوئی۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل بیرسٹر طاہر علی سومرو نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ حکومت نے 2021 میں اساتذہ کی بھرتیوں کے لیے پالیسی بنائی تھی، جس کے تحت ہارڈ اور سافٹ ایریاز کی درجہ بندی کی گئی۔ پالیسی کے مطابق ہارڈ ایریاز کے امیدواروں کے لیے 33 فیصد جبکہ سافٹ ایریاز کے امیدواروں کے لیے 40 فیصد پاسنگ مارکس مقرر کیے گئے تھے۔وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزاروں کا تعلق ہارڈ ایریاز سے ہے اور مطلوبہ پاسنگ مارکس حاصل کرنے کے باوجود انہیں بھرتی نہیں کیا گیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ عدالتی حکم کے باوجود بھرتیاں نہ کرنا توہینِ عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔

دورانِ سماعت حکومتِ سندھ نے اپنا جواب جمع کراتے ہوئے متعلقہ پالیسی پر من و عن عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی۔ سندھ حکومت کے وکیل نے بتایا کہ امیدواروں کی شکایات دور کرنے کے لیے پہلے ہی ایک کمیٹی تشکیل دی جاچکی ہے۔عدالت نے درخواست گزاروں کو سننے کے بعد کمیٹی کو دو ماہ کے اندر فیصلہ کرنے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہوا تو توہینِ عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں