ٹرمپ 12

ذاتی خیال ہے اماراتی طیارہ واقعے کا ذمے دار ایران ہے، ٹرمپ

واشنگٹن (رپورٹنگ آن لائن)امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کا ذاتی خیال ہے اماراتی طیارہ واقعہ کا ذمہ دار ایران ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق صحافی نے ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ اماراتی طیارے کے واقعے کا ذمہ دار ایران ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر ایسا ہی سمجھتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایران سے براہِ راست مذاکرات کے لیے ہمیشہ تیار ہیں، یہ بھی کہا کہ برطانیہ کے اڈے سے امریکی بمبار طیارے دھمکی کے باعث واپس بلائے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ طیارے منتقلی کے معاملے پر معلوم ہے کہ دھمکی دینے والے کون ہیں۔ٹرمپ نے وائٹ ہاس سے روانگی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ امریکی حکام کو بیس کے حوالے سے ایک خطرے کا علم تھا اسی لیے وہاں موجود بمبار طیاروں کو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔امریکی محکمہ دفاع نے اتوار کو تصدیق کی تھی کہ بیس پر موجود بمبار طیارے جن کی تعداد تقریبا 12 بی ون سمجھی جارہی ہے واپس امریکا میں اپنے ہوم اسٹیشنز منتقل کردیئے گئے ہیں۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ طیارے محض اتفاقا وہاں سے نہیں گئے بلکہ کچھ خطرات موجود تھے اس لیے دشمن کو موقع دینے کے بجائے طیاروں کو دوسری جگہ منتقل کردیا گیا۔

انہوں نے دعوی کیا کہ امریکا ان افراد کے بارے میں بھی جانتا ہے جن کی جانب سے خطرہ پیدا کیا گیا۔خطرے کی نوعیت اور اس میں ملوث افراد کے بارے میں امریکی صدر نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔امریکی ذرائع کے مطابق خدشہ ممکنہ تخریب کاری یا ایران کے ساتھ دوبارہ کشیدگی کی صورت میں حساس اور قیمتی طیاروں کو نشانہ بنانے کی کوشش سے متعلق ہوسکتا ہے۔یہ پیش رفت 27 ستمبر کو فیئر فورڈ ایئربیس کے قریب تین مشتبہ گاڑیوں کی موجودگی کے بعد سامنے آئی تھی تاہم برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ ایئربیس محفوظ ہے۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے طیاروں کی منتقلی کو معمول کی فوجی نقل و حرکت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ دنیا بھر میں فوجی یونٹس اور اثاثوں کی جگہ تبدیل کرنا غیر معمولی بات نہیں۔انہوں نے کہاکہ امریکا میں پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کی بڑی وجہ اب آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل میں خلل کے بجائے عالمی سطح پر ریفائننگ کی محدود صلاحیت ہے۔

صدر ٹرمپ نے امریکا میں پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ روس کی ریفائنریوں پر یوکرین کے حملوں اور اپوزیشن جماعت کے زیر اقتدار ریاستوں میں ریفائنریوں کی بندش کو قرار دیا۔انھوں نے کہا کہ مشرق وسطی سے خام تیل کی ترسیل گزشتہ چند ہفتوں کے دوران نمایاں طور پر بحال ہوئی ہے اور بعض اوقات جنگ سے پہلے کی سطح سے بھی تجاوز کرچکی ہے۔

صدر ٹرمپ کے بقول اس لیے امریکا میں تیل کی بڑھتی قیمتوں اور عالمی رسد میں کمی کی موجودہ صورتحال کو صرف آبنائے ہرمز میں خلل سے جوڑنا درست نہیں ہے۔تجارتی اعداد و شمار کے مطابق بھی اگرچہ خام تیل کی عالمی سپلائی میں بہتری آئی ہے تاہم ریفائنریوں کی بندش اور پیداوار میں رکاوٹوں کے باعث خام تیل کو پیٹرول، ڈیزل اور دیگر تیار شدہ مصنوعات میں تبدیل کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں