عطا اللہ تارڑ 79

خیبر پختونخوا کے عوام کی خوشحالی ان کا بنیادی حق ہے، بدقسمتی سے کوئی بھی سنجیدگی سے صوبے کی ترقی کیلئے نہیں سوچ رہا، عطاء اللہ تارڑ

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی خوشحالی ان کا بنیادی حق ہے، بدقسمتی سے کوئی بھی سنجیدگی سے صوبے کی ترقی کے لئے نہیں سوچ رہا، خیبر پختونخوا میں بے پناہ پوٹینشل موجود ہے، وہاں قیمتی جیمز اسٹونز اور ماربل اربوں ڈالر مالیت کے ہیں لیکن ان وسائل کو ریگولیٹ کرنے کے لئے کوئی موثر نظام موجود نہیں، محمد نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) نے ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھایا، ترقی کو گلی محلوں تک پہنچایا، لیپ ٹاپ سکیم اور دانش سکولز کے ذریعے میرٹ پر مبنی تعلیم و تربیت فراہم کی گئی، انہی لیپ ٹاپس کی بدولت کورونا وباء کے دوران ورک فراہم ہوم اور آن لائن تعلیم ممکن ہوئی،

دانش سکولز سے فارغ التحصیل طلبہ آج مختلف شعبوں میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں، آج سیف سٹی منصوبہ عوام کے تحفظ اور بروقت کارروائی کے لئے موثر ثابت ہو رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات خیبر پختونخوا اختیار ولی خان کے ہمراہ خیبرپختونخوا یوتھ اسمبلی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے لئے مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ سیاست سے وابستگی کے دوران قیمتی تجربات حاصل ہوئے جن کی اپنی ایک قدر ہے، یہ اسباق پوری زندگی عملی میدان میں کام آتے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ یوتھ اسمبلی کا پلیٹ فارم انتہائی اہم ہے جس کے ذریعے نہ صرف پالیسی سازی کے عمل کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے بلکہ دباؤ میں کام کرنے، نئی پالیسیاں مرتب کرنے اور ان پر موثر عمل درآمد جیسے امور سیکھنے کا بھی موقع فراہم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو محض تنقید تک محدود رہنے کی بجائے شیڈو کابینہ تشکیل دینی چاہئے اور واضح طور پر بتانا چاہئے کہ ٹیکسوں یا مختلف نظاموں سے متعلق جن مسائل کی نشاندہی کی جا رہی ہے انہیں کس طرح حل کیا جا سکتا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ ترقیاتی پالیسی کی بنیاد پر سیاست کی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف نےملک بھر میں ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھایا اور ترقی کو گلی محلوں تک پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مرحلہ وار ترقی کا آغاز کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ترقیاتی سیاست کی بجائے بیانیے کی سیاست آگے آ گئی ہے، سوشل میڈیا پر بیانات کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے جبکہ حقائق کی قدر بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ملک میں ابتدا میں پرنٹ میڈیا تھا جس کا باقاعدہ ادارتی ڈھانچہ ہوتا تھا جس میں ایڈیٹوریل بورڈ، رپورٹر، بیورو چیف، ایڈیٹر اور ایڈیٹر انچیف شامل تھے، بعد ازاں اسی بنیاد پر الیکٹرانک میڈیا نے ارتقاء پایا۔ الیکٹرانک میڈیا نے درحقیقت اخباری صحافت سے جنم لیا جس کے لیے ریگولیٹری فریم ورک تشکیل دیا گیا اور پیمرا کا قیام عمل میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ ارتقائی عمل کے ساتھ ساتھ نیوز چینلز میں ایڈیٹوریل بورڈ، ڈائریکٹرز اور دیگر ادارتی نظام بھی متعارف کرائے گئے۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے جب ڈیجیٹل میڈیا کا ارتقاء ہوا تو اس کے لئے کوئی باقاعدہ ایڈیٹوریل بورڈ، ایڈیٹر انچیف، رپورٹر، مؤثر ایڈیٹوریل پالیسی یا ریگولیٹری فریم ورک موجود نہیں تھا۔ آج پوری قوم کو ڈیجیٹل میڈیا سے جڑے متعدد مسائل سامنے آ رہے ہیں جن میں خواتین کو ہراساں کیے جانے، عدم برداشت، تشدد اور دیگر سماجی مسائل شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی خوشحالی ان کا بنیادی حق ہے تاہم بدقسمتی سے کوئی بھی سنجیدگی سے صوبے کی مجموعی ترقی کے لئے نہیں سوچ رہا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں بے پناہ پوٹینشل موجود ہے اور صوبے کے قیمتی جیم سٹونز کی مالیت اربوں ڈالر تک ہے مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ ان وسائل کو ریگولیٹ کرنے کے لئے کوئی موثر نظام وضع نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ بھی طے نہیں کیا گیا کہ ماربل کون نکالے گا، وہاں طاقتور عناصر پہاڑوں کو کاٹ کر ماربل حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اٹلی کے مشہور ماربل کی کان کنی کے لئے وہاں کسی بڑے زمیندار یا وڈیرے کو اجازت نہیں دی جاتی بلکہ ماربل وہی نکالتا ہے جس کے پاس اس شعبے کی باقاعدہ مہارت اور تکنیکی صلاحیت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمد نواز شریف 2013ء میں مولانا فضل الرحمان کی جماعت کے ساتھ مل کر حکومت بنا سکتے تھے تاہم چونکہ پی ٹی آئی کو اکثریت حاصل تھی اس لئے انہیں حکومت بنانے کی دعوت دی گئی جو ایک اعلیٰ جمہوری روایت کی مثال ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سیاسی بیانیہ بنانا، سیاسی مخالفت کرنا اور پوائنٹ اسکورنگ سیاست کا حصہ ہے، یہ عمل ہم بھی کرتے ہیں اور دیگر سیاسی جماعتیں بھی کرتی ہیں، تاہم سیاست میں اصولوں اور جمہوری اقدار کو مقدم رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ (پی کے ایل آئی) کامیابی سے کام کر رہا ہے جہاں اب تک ایک ہزار لیور ٹرانسپلانٹس ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے دوران بھی پی کے ایل آئی کو سینٹر کے طور پر استعمال کیا گیا کیونکہ وہاں اسٹیٹ آف دی آرٹ سہولیات میسر تھیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور خیبر پختونخوا کے مریضوں کا بڑا بوجھ اٹھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ سوچ کا ہوتا ہے، اگر سوچ بڑی ہو تو ناممکن کو بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے میرٹ کی بنیاد پر لیپ ٹاپ سکیم کا آغاز کیا جس میں نہ کسی سیاسی وابستگی کی شرط رکھی گئی اور نہ رنگ و نسل کی بلکہ واحد معیار تعلیمی میرٹ اور مقررہ جی پی اے تھا۔

انہوں نے تنقید کرنے والوں سے سوال کیا کہ اگر ہم نے لیپ ٹاپ دیئے ہیں تو متبادل کے طور پر انہوں نے کیا دیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کورونا کے دوران انہی لیپ ٹاپس کی بدولت معیشت کا پہیہ چلتا رہا، ورک فرام ہوم اور آن لائن تعلیم کا سلسلہ جاری رہا اور لاکھوں طلبہ مستفید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ تنقید اسی وقت مؤثر ہوتی ہے جب اس سے بہتر نظام پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ہمیشہ تنقید کو برداشت کیا اور عملی اقدامات کے ذریعے عوامی مسائل کے حل کو ترجیح دی۔

انہوں نے کہا کہ لیپ ٹاپ سکیم نوجوانوں پر سرمایہ کاری ہے جو پورے پاکستان میں بلاتفریق کی جا رہی ہے اور اس کا کوئی سیاسی مقصد نہیں بلکہ یہ صرف ملک و قوم کے مستقبل کے لئے ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر سوشل سیکٹرز میں سرمایہ کاری کی جائے تو ترقی کا عمل آگے بڑھتا ہے اور صحت و تعلیم کے شعبوں میں ایسے ہزاروں منصوبے موجود ہیں جو عوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دانش سکولوں کے ذریعے نادار اور مستحق بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دانش سکولوں کے قیام پر بھی تنقید کی گئی تھی تاہم تنقید عموماً وہی لوگ کرتے ہیں جنہیں خود تمام سہولیات میسر ہوتی ہیں جبکہ جب غریب کے بچوں کی باری آتی ہے تو انہیں روکنے کی بات کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے واضح کیا تھا کہ ایسے سکول قائم کئے جائیں گے جو ایچی سن کالج کے معیار کے ہوں مگر پسماندہ علاقوں میں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دانش سکولوں میں یتیم بچوں کو پہلی ترجیح دی جاتی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ لیہ کی ایک طالبہ آج اپنی آئی ٹی لیب چلا رہی ہے جبکہ ایک طالب علم اسی تعلیمی ادارے سے تعلیم حاصل کر کے ڈاکٹر بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ تعلیمی ادارے قائم نہ کئے جاتے تو یہی بچے کسی کے گھروں میں مزدوری کر رہے ہوتے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اس ملک میں کام کرنا سب سے مشکل جبکہ تنقید کرنا سب سے آسان کام بن چکا ہے تاہم لیپ ٹاپ اسکیم سے لے کر دانش اسکولوں تک تمام منصوبے آج بھی موجود اور فعال ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیف سٹی منصوبہ عوام کے تحفظ اور بروقت کارروائی کے لئے شروع کیا گیا تھا جس کے عملی نتائج سامنے آئے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ لاہور میں ہونے والے ایک دھماکے میں ڈی آئی جی کیپٹن مبین شہید ہوئے جس کے بعد سیف سٹی کیمروں کی مدد سے واقعے کی ویڈیو کو ریوائنڈ کر کے تحقیقات کی گئیں، کیمروں کے ذریعے فریم بائے فریم ملزم کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا گیا جس میں یہ معلوم ہوا کہ ملزم کہاں سے آیا، رکشے سے کہاں اترا اور کس گلی سے ہوتے ہوئے کس گھر میں داخل ہوا۔ سیف سٹی کیمروں کی بدولت نہ صرف ملزم بلکہ اس کے ہینڈلر تک بھی رسائی حاصل کی گئی جسے گرفتار کیا گیا اور آج اسے سزائے موت ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر سیف سٹی کا نظام موجود نہ ہوتا تو اس سطح کی تفتیش ممکن نہ تھی۔ وفاقی وزیر نے قصور سے تعلق رکھنے والی معصوم بچی زینب کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس سے پوری قوم واقف ہے اور اگر فرانزک لیبارٹری کا قیام عمل میں نہ آیا ہوتا تو اس کے قاتل کو پکڑنا ممکن نہ تھا۔ اس کیس میں دو سے تین ہزار ڈی این اے سیمپلز اکٹھے کئے گئے جن میں سے ایک سیمپل میچ ہوا اور مجرم قانون کے کٹہرے تک پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ اگر فرانزک لیب موجود نہ ہوتی تو قاتل کی تلاش میں برسوں لگ جاتے جس سے واضح ہوتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور ادارہ جاتی اصلاحات عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لئے ناگزیر ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سیف سٹی، فارنزک لیبارٹری اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) جیسے ادارے عوامی تحفظ اور قومی سلامتی کے لئے نہایت اہم ہیں۔ یہ کام باقی صوبوں میں بھی ہونا چاہیے تھا تاہم بدقسمتی سے ایک صوبے میں سیاست اب شعر و شاعری اور گانوں کی نذر ہو گئی ہے اور سیاست کا برانڈ بدل کر بیانیے اور سوشل میڈیا کے گرد گھومنے لگا ہے جس سے طویل مدتی پالیسی سازی اور عملی اقدامات متاثر ہو رہے ہیں۔

اصل جدوجہد تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر کی ترقی، سوشل سیکٹرز اور کاؤنٹر ٹیررازم کے شعبوں میں ہونی چاہیے تھی لیکن بدقسمتی سے یہ جدوجہد چور، ڈاکو اور غدار کے خلاف بیانیے کی طرف منتقل ہو گئی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بیانیہ ڈویلپمنٹ سے ہٹ کر شعبدہ بازی اور فنکاری کی طرف چلا گیا۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا پاکستان کا خوبصورت ترین صوبہ ہے اور اس کی ترقی و خوشحالی سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دیگر صوبے ترقی کر جائیں اور ایک صوبہ صرف بیانیے کے چکر میں سب سے پیچھے رہ جائے، یہ کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں