کراچی(حلیم عادل شیخ) پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام غیر جمہوری اور صوبے کے عوام کے آئینی و قانونی مینڈیٹ کے منافی ہے۔
صوبائی خودمختاری کے خلاف اقدامات اور وفاق و صوبے کے درمیان محاذ آرائی سے امن و استحکام قائم نہیں ہوسکتا۔حلیم عادل شیخ نے طنزیہ انداز میں پیپلز پارٹی کو خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی ہیٹ ٹرک مکمل کرنے پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ 1975 میں ذوالفقار علی بھٹو، 1994 میں بے نظیر بھٹو اور اب 2026 میں صدر آصف علی زرداری کے دور میں گورنر راج کی تاریخ دہرائی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ قومی ذمہ داری ہے، تاہم اسے عوام کی آواز دبانے یا منتخب نمائندوں کو کمزور کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ دہشت گردی جیسے سنگین چیلنج سے نمٹنے کے لیے قومی اتحاد، باہمی مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔
صدر پی ٹی آئی سندھ نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ خیبر پختونخوا کے تحفظات سنے اور عوامی جذبات کا احترام کرے۔ ان کے بقول ملکی مسائل کا حل طاقت اور محاذ آرائی کے بجائے آئین کی بالادستی، سیاسی بصیرت اور بامعنی مذاکرات میں ہے۔حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے پر نظرثانی کرکے اسے واپس لے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ فیصلے پر نظرثانی نہ ہونے سے ملک میں عدم استحکام بڑھ سکتا ہے اور سیاسی و معاشی نقصان میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف عوامی مینڈیٹ اور صوبائی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر آئینی فورم پر اپنا کردار ادا کرے گی۔ مضبوط صوبے مضبوط وفاق کی بنیاد ہیں، اس لیے صوبوں کے آئینی حقوق اور عوام کے منتخب نمائندوں کے مینڈیٹ کا احترام کیا جانا چاہیے۔









