لاہور(رپورٹنگ آن لائن) پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے کہا ہے کہ ہارٹ اٹیک کے مریض کو بر وقت طبی امداد پہنچا کر اُس کی جان بچائی جا سکتی ہے جس کے لئے نوجوان ڈاکٹرز اورنرسز کو سینئر پروفیسرز کے تجربات اور مشاہدے کو اپنی پیشہ وارانہ زندگی کا عملی حصہ بنانا ہوگا اور کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں معالج اور پیرا میڈیکس کا باہمی رابطہ مریضوں کو علاج معالجہ کی بہتر سہولیات اور صحت کا ضامن ہوتا ہے جس سے انہیں نہ صرف جلد معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے کا موقع ملتا ہے بلکہ ان کی ذہنی اذیت اور علاج معالجے کے اخراجات میں بھی بچت ہوتی ہے۔
ان خیالات کا اظہارپروفیسر الفرید ظفر نے لاہور جنرل ہسپتال میڈیکل یونٹ3کے زیر اہتمام ای سی جی کو پڑھنے اور مریض کو بر وقت کارڈیک سپورٹ دینے کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پروفیسر آف میڈیسن ڈاکٹر طاہر صدیق نے اس نشست کا اہتمام کیا تھا جبکہ پروفیسر غیاث النبی طیب،پروفیسر فرح شفیع اور پروفیسر طاہرصدیق نے لیکچر ڈلیورکیے اور سیمینار کے شرکاء کو عملی تربیت کا مظاہرہ کر کے دکھایا۔ اس موقع پر مختلف شعبوں کے پروفیسرصاحبان،ایم ایس ڈاکٹر عبدالرزاق، نوجوان ڈاکٹرز،میڈیکل سٹوڈنٹس کے علاوہ ڈاکٹر کاشف عزیز احمد،ڈاکٹر سلمان شکیل، ڈاکٹر محمد مقصود،ڈاکٹر عبدالعزیز، ڈاکٹر صابرہ شریف اور ڈاکٹر عزیز فاطمہ کے علاوہ دیگر بھی موجود تھے۔
میڈیا سے گفتگو میں پرنسپل پی جی ایم آئی کا کہنا تھا کہ طب کا شعبہ ڈاکٹرز و دیگر سٹاف سے اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ اپنے “پروفیشنل نالج “کو دنیا میں میڈیکل سائنس کے شعبہ میں ہونے والی ترقی سے ہم آہنگ رکھیں جس کے لئے سٹڈی اور ریسرچ کو مستقل طور پر پیشہ وارانہ زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ مرض کی تشخیص و علاج کیلئے موجودہ جدید میڈیکل آلات و مشینری کی اہمیت زیادہ بڑھ گئی ہے اور ” میڈیکل اکویپمنٹ” ڈاکٹرز کے” ہیلپنگ ہینڈز ” ہوتے ہیں۔پروفیسر الفرید ظفر نے کلینیکل سیمینارکے انعقاد پر پروفیسر طاہر صدیق اور اُن کی ٹیم کی تعریف کی اور کہا کہ ایسے کلینیکل سمپوزیم نہ صرف ادارے کی رینکنگ میں اضافے کا باعث بنتے ہیں بلکہ طب سے وابستہ افراد کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ اس موقع پر مختلف طبی ماہرین نے دل کے دورے،علامات، بر وقت تشخیص اور اُن کے علاج معالجے کے طریقہ کار پر روشنی ڈالی اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اقدامات برؤئے کار لانے کی ضرورت پر زور دیا۔









