لاہور(رپورٹنگ آن لائن) پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے لاہور جنرل ہسپتال کی گزشتہ مالی سال کی کارکردگی رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ایمرجنسی اور آؤٹ ڈور میں 15,48,752مریضوں کو بغیر پرچی فیس معیاری طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کورونا کی صورتحال کی وجہ سے نا مساعد حالات کے باجود ڈاکٹر،نرسز اور پیرا میڈیکس نے دکھی انسانیت کی خدمت بھرپور پیشہ وارانہ لگن اور سخت محنت کے ساتھ اپنی جانوں کو خطرات میں ڈال کرجاری رکھی جسے کسی طور بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اس موقع پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ جنرل ہسپتال ڈاکٹر عبدالرزاق،فوکل پرسن ایمرجنسی ڈاکٹر لیلیٰ شفیق، ڈاکٹر عبدالعزیز و انتظامی ڈاکٹرزبھی موجود تھے۔
پروفیسر الفرید ظفر نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ عید الضحیٰ پر کورونا کی چوتھی لہر کو پیش نظر رکھتے ہوئے اور خاص طور پر بھارتی ڈیلٹا کی وبا سے محفوظ رہنے کے لئے پہلے سے زیادہ ذمہ داری کے ساتھ ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ ڈیلٹاوائرس انتہائی مہلک ثابت ہوا ہے لہذا کسی قسم کی کوتاہی بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ویکسی نیشن کروانا اور احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا نا گز یر ہو چکا ہے کیونکہ جان ہے تو جہاں ہے۔ خوشیاں منانے کیلئے زندہ سلامت موجود ہونا ضروری ہے۔پروفیسر الفرید ظفر نے واضح کیا کہ عید قربان پر میل میلاپ اور رشتے داروں کا ایک شہر سے دوسرے شہر جانا اس وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے لہذا لوگوں کو چاہیے کہ وہ سفر سے گریز کریں اور سماجی فاصلوں کا خیال رکھیں اور موبائل فون پر عید کی مبارکباد دے کر عید کی خوشیوں میں شریک ہوں کیونکہ جدید ٹیکنالوجی نے فاصلے سمیٹ دیے ہیں اور واٹس ایپ پر تصویر بھجواکر خوشیاں دوبالا کر سکتے ہیں۔
پرنسپل پی جی ایم آئی نے مزید کہا کہ وائرس کے مکمل خاتمے اوراس کی شدت میں کمی کے بعد اپنے عزیز و اقارب سے ملنے کیلئے جا سکتے ہیں تاہم موجودہ حالات احتیاط کا تقاضا کرتے ہیں تاکہ ہسپتالوں میں کام کرنے والے عملے پر اضافی بوجھ نہ پڑے جو اپنی عید کی خوشیاں ترک کرکے دکھی انسانیت کیلئے ہمہ وقت موجود ہیں۔پروفیسر الفرید نے کہا کہ کورونا کی روک تھام کیلئے حکومتی اقدامات لائق تحسین ہیں وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر نیشنل کمانڈ اینڈآپریشنل سینٹر(این سی او سی) نے انتہائی متحرک کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد و دیگر اداروں نے بر وقت گائیڈ لائن الرٹ جاری کر کے کورونا سے بچاؤ کیلئے اقدامات اٹھائے جس سے وائرس کو کنٹرول کرنے میں بہت مدد ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل ہسپتال میں مریضوں اور تیمارداروں کو تینوں وقت کے کھانے کی فراہمی جاری ہے اور تاریخ میں پہلی مرتبہ موجودہ حکومت کے ویژن کے مطابق پناہ گاہ اور آرام گاہیں بنائی گئیں جس سے علاج معالجے کیلئے دور دراز سے آنے والے رہائشی اخراجات بچے ہیں۔
مالی سال 2020کی بریفنگ میں پرنسپل پروفیسر الفرید ظفرنے بتایا کہ جنرل ہسپتال کے آؤٹ ڈور میں 803877 اور شعبہ ایمرجنسی میں 744875 مریضوں کو طبی سہولیات باہم پہنچائی گئیں جبکہ58698مریض داخل ہوئے،64213ایکسرے،116580 الٹرا ساؤنڈجبکہ43432سی ٹی سکین ہوئے۔ اس عرصے کے دوران 23791آپریشن کیے گئے نیز 18788مریضوں کے ڈائلسز ہوئے۔ اسی طرح5067 گیسٹروسکوپی اور اڑھائی ہزار کے لگ بھگ فبرو سکین بھی کیے گئے۔پروفیسر الفرید ظفر نے مزید بتایا کہ جنرل ہسپتال کے شعبہ حادثات میں ساڑھے 7لاکھ کے لگ بھگ مریضوں کو مفت ادویات، تشخیصی ٹیسٹ اور آپریشن کے سامان کی فراہمی بھی عمل میں لائی گئی۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مستقبل میں بھی حکومت پنجاب اور محکمہ صحت کی پالیسی کے مطابق مریضوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے میں کوئی کسراٹھا نہیں رکھیں گے۔
282






