حافظ نعیم الرحمن 9

جماعت اسلامی نے مذاکرات کے لیے طریقہ کار بتادیا ،دروازے کبھی بند نہیں کیے’ حافظ نعیم الرحمن

لاہور( رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت روزانہ کی بنیاد پر عوام پر مظالم ڈھا رہی ہے، حکمران اپنی عیاشیاں ختم کرنے کے بجائے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال رہے ہیں۔ غریبوں سے پٹرولیم لیوی بھتہ وصول کرنے کی بجائے حکمران اپنی بڑی گاڑیاں، مفت پٹرول کیوں ختم نہیں کرتے؟ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چیئرنگ کراس چوک میں جماعت اسلامی کے دھرنے کے پندرھویں روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ امیر لاہور ضیا ء الدین انصاری اور دیگر راہنما بھی اس موقع پر موجود تھے۔

راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسے کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ انتظامیہ نے لیاقت باغ کو تالے لگا کر اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔ جماعت اسلامی کے کارکن تالے توڑ کر اندر جانے کے لیے تیار تھے لیکن قیادت نے انہیں روکا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے جلسے کی اجازت نہ دی تو اسلام آباد اور راولپنڈی میں احتجاج ہوگا اور تمام سڑکیں بند کردی جائیں گی۔پھر ہم ذمہ دار نہیں ہوں گے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے ابتدا ء میں جماعت اسلامی سے رابطہ کیا تھا اور جماعت اسلامی نے مذاکرات کے لیے طریقہ کار بھی بتادیا تھا۔ ہم نے مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں کیے۔ اب حکومت کو سمجھ آگیا ہے کہ جماعت اسلامی ایسے جانے والی نہیں ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ 3 ستمبر کو بھرپور ملک گیر ہڑتال ہوگی اور اس کے بعد تحریک کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ملک کی مجموعی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ نظام گل سڑ چکا ہے اور کسی شعبے میں عوام کو ریلیف نہیں مل رہا۔ اساتذہ، ڈاکٹرز اور مزدور مہنگائی سے پریشان ہیں، جبکہ لوگوں کی جان و مال محفوظ نہیں۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور بلوچستان میں بدامنی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا موجودہ نظام عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہوچکا ہے۔ پاکستان میں اب بھی انگریزوں کا بنایا ہوا نظام قائم ہے اور انتخابی نظام میں بھی بڑی خرابیاں ہیں۔ موجودہ انتخابی نظام میں زیادہ تر جاگیردار ہی آگے آتے ہیں، جس کے باعث نوجوان مایوس ہیں اور ملک چھوڑنے کی خواہش رکھتے ہیں۔یہ ملک کے لیے بہت بڑا المیہ ہے۔قصور میں زینب کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ایسے مجرموں کو سخت ترین سزا دینے کی تجویز دی تھی تاکہ آئندہ کسی بچی کے ساتھ زیادتی کا واقعہ پیش نہ آئے۔

انہوں نے کہا کہ مجرموں کے خلاف مؤثر کارروائی اور پولیس اصلاحات ناگزیر ہیں۔انہوں نے خیبر پختونخوا ہ کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ایک متاثرہ بچی کے گھر آمد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکمران متاثرہ خاندان کے ساتھ غم میں شریک ہوتے ہیں تو انہیں یہ بھی بتانا چاہیے کہ پولیس اصلاحات اب تک کیوں نہیں ہوئیں۔حکومت کو مجرموں پر ہاتھ ڈالنا ہوگا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ہوسکے۔ عوام کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔جماعت اسلامی کو اقتدار ملا تو ملک میں سب کے لیے برابر مواقع پیدا کیے جائیں گے اور ایسا نظام لایا جائے گا جس میں عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک میں مخصوص طبقے کو مراعات حاصل ہیں ، عام آدمی کے لیے کاروبار کرنا بھی مشکل بنا دیا گیا ہے۔ طلبہ، مزدور اور چھوٹے کسان ٹیکسوں اور مہنگائی کا بوجھ اٹھا رہے ہیں، سینکڑوں مربع اراضی کے مالکان بھی ٹیکس نہیں دیتے۔

عام آدمی کو ملک میں بہتر سفری سہولیات تک دستیاب نہیں، افسران اور وزرا بڑی اور مہنگی ترین گاڑیوں میں گھومتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ سرکاری افسران اور وزرا 1300 سی سی کی گاڑیوں میں کیوں نہیں آتے۔ حکمران عوام سے بھتہ وصولی کی بجائے اپنی عیاشیاں ختم کریں، چھوٹی گاڑیوں پر آئیں، افسرشاہی کو مفت پٹرول کی سہولت، گیس کی مراعات اور بجلی پر دی جانے والی سبسڈی ختم کی جائے۔ ملک میں تقریباً ڈھائی کروڑ موٹرسائیکلیں ہیں ، حکمران موٹرسائیکل سواروں پر مسلسل بوجھ ڈال رہے ہیں اور مراعات یافتہ طبقے کو چھوڑ رہے ہیں۔ ہر موٹر سائیکل سوار ایک لٹر پٹرول پر ایک سو تیس روپے بھتہ دیتا ہے۔ حکومتی پالیسیوں نے صنعتیں تباہ کردی ہیں، غریب مزدور رُل گیا ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکمرانوں نے میٹرو بس اور اورنج ٹرین بنا کر سمجھا کہ انہوں نے بڑا کارنامہ انجام دے دیا، جبکہ دنیا کے کئی ممالک میں زیرزمین ٹرینوں کا جدید نظام موجود ہے۔ لاہور میں بھی سب وے کا نظام ہونا چاہیے تھا۔ اگر پابندیوں کے باوجود ایران زیرزمین ٹرین کا منصوبہ بنا سکتا ہے تو پاکستان ایسا کیوں نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ بجلی پیدا نہ ہونے کے باوجود آئی پی پیز کو کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں رقم عوام سے وصول کی جارہی ہے۔ جماعت اسلامی کے دھرنوں سے پہلے عام لوگوں کو آئی پی پیز کے بارے میں علم تک نہیں تھا، ہمارے احتجاج کے بعد حکومت ان سے مذاکرات پر مجبور ہوئی اور عوام کو بجلی کے بلوں میں ریلیف ملا۔امیرجماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی کے دھرنے کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ عوام کے حقوق کے لیے ہیں۔ لاہور، کراچی، کوئٹہ، پشاور اور حیدرآباد سمیت مختلف شہروں میں دھرنے جاری ہیں، مطالبات کی منظوری تک دھرنا ختم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں