جاپان 9

جاپان کے ٹی بی ایس ٹیلی وژن کو حیلے بہانے بنانے کے بجائے اپنی غلطی تسلیم کرکے اصلاح کرنی چاہیے، چینی میڈیا

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) جاپان کے ٹی بی ایس ٹیلی وژن کے صدر ماسامنے ریوہو نے اس چینل کے مقبول ڈرامے “ویوانٹ” کے دوسرے سیزن میں چین کو کھلے عام بدنام کرنے کے معاملے پر وضاحت پیش کی، جس کے نتیجے میں جاپان کے اندر اور بیرونِ ملک اس پر مزید شدید تنقید سامنے آئی۔

یہ ایک مسلمہ تاریخی حقیقت ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپانی عسکریت پسندی نے چین پر جارحیت کی اور انسانیت کے خلاف ناقابلِ بیان جرائم کا ارتکاب کیا۔ لیکن اس ڈرامے میں تاریخ کو اس انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ جارح اور متاثرہ فریقوں کی حیثیت ہی الٹ دی گئی ہے۔ اس ڈرامے کے ذریعے ثقافتی مصنوعات کی آڑ میں چین کی شبیہ مسخ کرنے اور اسے بدنام کرنے کے ساتھ ساتھ چین مخالف جذبات پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے۔

جاپان کی جانب سے تاریخ کو مسخ کرنے کا سلسلہ درسی کتابوں میں تاریخی حقائق تبدیل کرنے سے لے کر اے آئی کے ذریعے جعلی ویڈیوز تیار کرنے تک پھیلا ہوا ہے۔ یاسوکونی شرائن میں حاضری دینے سے لے کر تاریخ کو مسلسل توڑ مروڑ کر پیش کرنے تک ایسے اقدامات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ جاپان کے سابق وزیراعظم شیگیرو ایشیبا نے نشاندہی کی ہے کہ جنگ جاپان نے شروع کی تھی، جس کے نتیجے میں کروڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا ہے کہ روس نے حالیہ برسوں میں جاپانی فلموں اور ٹیلی وژن پروگراموں میں تاریخی حقائق کو بارہا مسخ کرکے پیش کیے جانے کا نوٹس لیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جاپان اس طرح کی جعلی سرگرمیاں جاری رکھتا ہے تو روس مناسب اقدامات کرے گا۔

جاپان کے دائیں بازو کے حلقے مسلسل “دوبارہ عسکری طاقت بننے” کی راہ ہموار کر رہے ہیں اور “نئی طرز کی عسکریت پسندی” کو فروغ دینے کے لیے ماحول بنا رہے ہیں۔ 2026 کے دفاعی وائٹ پیپر میں چین کو “سب سے بڑا تزویراتی چیلنج” قرار دیا گیا ہے۔ جاپان کا دفاعی بجٹ مسلسل 14ویں سال بڑھا ہے اور مالی سال 2026 میں 9 ٹریلین ین سے تجاوز کر گیا ہے۔

اس کے علاوہ جاپان نے تقریباً ایک ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے ایسے میزائل بھی تعینات کیے ہیں جن میں “دشمن کے اڈوں پر حملے کی صلاحیت” موجود ہے۔ جاپان کے یہ اقدامات جنگ کے بعد قائم ہونے والے بین الاقوامی نظام کو مسلسل چیلنج کر رہے ہیں اور خطے سمیت عالمی امن و استحکام کے لیے حقیقی خطرہ بن رہے ہیں۔

تاریخ کو مسخ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور جنگ کے بعد قائم ہونے والے عالمی نظام کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ آج ، ٹی بی ایس کو سب سے پہلے تاریخ کا سامنا کرتے ہوئے خلوصِ دل سے اپنی غلطی تسلیم کرنی چاہیے، متعلقہ ڈرامے کی نشریات بند کرنی چاہئیں اور چینی عوام سے معذرت کرنی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں