اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ آزمائشوں اور عالمی بحرانوں کے دور میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو خطرات کو مواقع میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، پاکستان کو معاشی خودمختاری کی منزل تک پہنچانے کیلئے نجی شعبے کو نیٹ ورکنگ، باہمی شراکت داری اور جدت کے فروغ کے ذریعے ملکی برآمدات میں اضافے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار سی ای او کلب پاکستان اور ورلڈ سی ای او فورم کے زیر اہتمام منعقدہ ملک کی اہم کارپوریٹ کانفرنس سی ای او سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کانفرنس میں 500سے زائد کاروباری رہنمائوں،چیف ایگزیکٹوز، عالمی سرمایہ کاروں، غیر ملکی سفارت کاروں اور خواتین کاروباری شخصیات نے شرکت کی اور معاشی خودمختاری کے عزم کا اعادہ کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی بصیرت اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے معاشی ڈیفالٹ کے خطرے پر قابو پایا اور اپنے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک معاشی محاذ پر بھی مضبوط بنیاد پر آگے بڑھے اور قومی ترقی کے لیے دستیاب مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائے۔
انہوں نے نجی شعبے پر زور دیا کہ وہ کاروباری روابط میں وسعت ، سرمایہ کاری کے نئے مواقع ، باہمی تعاون کے فروغ اور جدت پر مبنی اقدامات کے ذریعے ملکی معیشت کو مضبوط بنانے میں فعال کردار ادا کرے۔ احسن اقبال نے کہا کہ برآمدات میں اضافہ پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی اور خودمختاری کے حصول کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔کانفرنس میں ملکی معیشت میں قابل قدر کردار ادا کرنے والے کاروباری رہنماں کو سی ای او ایوارڈز سے نوازا گیا جس کا مقصد کاروباری قیادت اور معاشی ترقی میں نمایاں خدمات کو سراہنا تھا۔









