آئی ایم ایف 31

بجٹ مذاکرات،آئی ایم ایف کا وفاقی اور صوبائی سطح پر اضافی ٹیکس وصولی کا مطالبہ

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن) پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف )کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ اورمعاشی اہداف پر جاری مذاکرات میں فریقین میں میکرو اکنامک فریم ورک اورنئے بجٹ اہداف پراختلافات برقرار ہیں۔ذرائع کے حوالے سے میڈیارپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے وفاقی اورصوبائی سطح پر اضافی ٹیکس وصولی کا مطالبہ کر دیا ہے، جبکہ صوبوں کو آئندہ مالی سال کے دوران ریونیو میں تقریبا 40 فیصد اضافے کی ہدایت دی گئی ہے۔حکومت نے اگلے مالی سال کے لئے شرح نموکا ہدف 4.1 فیصدمقررکرنے کی تجویزدی ہے،جبکہ آئی ایم ایف کے مطابق آئندہ مالی سال جی ڈی پی گروتھ 3.5 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

رواں مالی سال حکومت نے 4.2 فیصد شرح نمو کا ہدف رکھا تھا، تاہم کارکردگی 3.7 فیصد رہی۔حکومتی تخمینے کے مطابق آئندہ مالی سال اوسط مہنگائی 8.6 فیصد رہ سکتی ہے،تاہم حکام کاکہنا ہےکہ مشرق وسطی میں کشیدگی برقرار رہنے کی صورت میں مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق صوبوں میں زراعت،پراپرٹی،سروسز اوردیگرشعبوں سے تقریبا 400 ارب روپے اضافی ٹیکس جمع کرنے کاہدف مقررکیاگیا ہے،نئے بجٹ میں پرائمری سرپلس کاہدف جی ڈی پی کے 2 فیصد کے مساوی رکھنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

اقتصادی حکام کے مطابق اگلے سال کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ جی ڈی پی کا ایک فیصد، 4 ارب ڈالر تک ہو سکتا ہے،جبکہ اگلے مالی سال غیر ملکی درآمدات 70 ارب ڈالر تک جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہوا تو تجارتی خسارہ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے،جبکہ نئے مالی سال میں بھی معیشت کو سہارا دینے کیلئے ترسیلات زر پر انحصار برقرار رہے گا اور ترسیلات زر کے 42 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں