چین 16

“اے آئی ڈسٹیلیشن” کے امریکی الزامات بے بنیاد ہیں ،چینی وزارتِ تجارت

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی ، سائبر سکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سکیورٹی ایجنسی اور فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا، جس میں چینی مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں پر الزام لگایا گیا کہ وہ امریکہ کے خلاف “صنعتی پیمانے” پر ڈسٹیلیشن انجام دے رہی ہیں تاکہ امریکہ کے جدید ترین ماڈلز کی صلاحیتیں حاصل کی جا سکیں۔ اعلامیے میں امریکی کمپنیوں کو متعلقہ دفاعی اقدامات اپنانے کی بھی سفارش کی گئی۔

اس حوالے سے چین کی وزارتِ تجارت کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ کے یہ الزامات حقائق سے دور اور قانونی طور پر بے بنیاد ہیں ۔ امریکہ کا یہ اقدام ” ڈسٹیلیشن” جیسے صنعت کے ایک عام تکنیکی اور تجارتی معاملے کو سیاسی رنگ دینے اور اسے بطورِ آلہ استعمال کرنے کی کوشش ہے، اور عملی طور پر یہ دوہرے معیار کی واضح مثال ہے۔ ترجمان نے کہا کہ امریکہ کا مذکورہ اعلامیہ اس بات کا ایک اور ثبوت ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ٹیکنالوجی کی بالادستی قائم کرنے، کمپیوٹنگ پاور پر اجارہ داری جمائے رکھنے اور مسابقت کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔ چین اس کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ڈسٹیلیشن مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مختلف ماڈلز کے درمیان ایک دوسرے سے سیکھنے کا ایک عام اور رائج طریقہ ہے، جسے امریکی کمپنیوں سمیت دنیا بھر کی ماڈل ساز کمپنیاں استعمال کر رہی ہیں۔ چین امید کرتا ہے کہ امریکہ چین کے ساتھ ہم آہنگی سے آگے بڑھے گا، تاکہ مصنوعی ذہانت کی صنعت پوری دنیا کے لیے مفید ثابت ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں