ایران 13

ایران کے جوہری مسئلے کا حل سیاسی و سفارتی راستہ ہی ہے،چین

نیو یارک (رپورٹنگ آن لائن) بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز نے ایران کے جوہری مسئلے کا جائزہ لیا۔ ایجنسی میں چین کے مستقل نمائندے لی سونگ نے اپنے خطاب میں چین کا موقف بیان کیا۔

لی سونگ نے کہا کہ گزشتہ سال جون کے بعد سے، امریکہ اور اسرائیل نے ایران کی اُن پرامن جوہری تنصیبات پر دو مرتبہ فوجی حملے کیے جو آئی اے ای اے کی حفاظتی نگرانی کے تحت ہیں۔ ان حملوں نے ایران اور ایجنسی کے درمیان حفاظتی نگرانی کے تعاون میں شدید رکاوٹیں کھڑی کی ہیں اور “جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے” کے نظام کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ ایران کا ایجنسی کے ساتھ تعاون اب تک معمول پر نہیں آ سکا۔

لی سونگ نے زور دے کر کہا کہ بورڈ آف گورنرز میں سیاسی محاذ آرائی سے ایران کے جوہری مسئلے کا حل ممکن نہیں، زبردستی قرارداد منظور کرانے سے تضادات مزید بڑھیں گے، اور معاملے کو سلامتی کونسل میں لے جانا بھی کوئی راستہ نہیں ہے۔ ایران کے جوہری مسئلے کی تاریخی روایت یہ بات پوری طرح ثابت کرتی ہے کہ سیاسی و سفارتی حل ہی ایران کے جوہری مسئلے کا اصل راستہ ہے۔

اجلاس کے دوران آئی اے ای اے کے رکن ممالک کے درمیان شدید بحث ہوئی، اور بالآخر امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی مشترکہ حمایت سے ایران کے جوہری مسئلے سے متعلق قرارداد منظور کر لی گئی۔ بورڈ کے ووٹ دینے کے حق رکھنے والے 34 رکن ممالک میں سے چین، روس اور نائجر نے قرارداد کے خلاف ووٹ دیا، جبکہ برازیل، جنوبی افریقہ، بھارت، مصر، تھائی لینڈ سمیت 8 ترقی پذیر ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں