لاہور( رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ اویس لغاری کا قومی اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر یہ کہنا کہ”سولر نیٹ میٹرنگ میں کوئی غریب نہیں”انتہائی قابل مذمت، افسوسناک اور جاگیردارانہ و سرمایہ دارانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے،حکمران عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ان سے سستی بجلی کا آخری سہارا بھی چھیننا چاہتے ہیں،پہلے آئی پی پیز معاہدوں کے ذریعے خطے میں سب سے مہنگی بجلی پیدا کی اور اس کا تمام بوجھ غریب عوام پر ڈال دیا، بجلی کے بھاری بلوں، ظالمانہ ٹیکسوں اور مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، ایسے حالات میں جب شہریوں نے اپنی جمع پونجی لگا کر سولر سسٹمز نصب کرنا شروع کیے تاکہ بجلی کے اخراجات میں کمی لائی جا سکے تو حکومت اب سولر صارفین کے خلاف بھی اقدامات کر رہی ہے۔
محمد جاوید قصوری نے اپنے بیان میں کہا کہ مختلف حیلوں بہانوں سے نیٹ میٹرنگ پالیسی تبدیل کر کے سولر صارفین پر اضافی ٹیکس اور پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں جو قابلِ تشویش ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب پاکستان اپنی 76 فیصد توانائی مقامی ذرائع سے پیدا کرتا ہے تو پھر عوام کو اتنی مہنگی بجلی کیوں فراہم کی جا رہی ہے؟ حکمرانوں کو قوم کو جواب دینا ہوگا کہ آخر بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ کیوں کیا جا رہا ہے جبکہ عوام کی آمدن میں کوئی اضافہ نہیں ہو رہا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان پر قرضوں کے تمام ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں اور ملک و قوم پر قرضہ 97 ہزار 307 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔
حکمران عوام کو کفایت شعاری کے لیکچر دیتے ہیں مگر خود شاہانہ اخراجات اور عیاشیوں میں مصروف ہیں۔ ایک طرف غریب آدمی دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہے جبکہ دوسری طرف حکمران طبقہ قومی خزانے پر بوجھ بنا ہوا ہے۔امیر جماعت اسلامی پنجاب نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر عوام دشمن پالیسیوں کو واپس لے، آئی پی پیز معاہدوں پر نظرثانی کرے، بجلی کے نرخ کم کرے اور سولر توانائی کی حوصلہ افزائی کرے تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہر فورم پر عوام کے حقوق کی آواز بلند کرتی رہے گی اور ظالمانہ معاشی پالیسیوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی۔









