لاہور 06 اگست(زاہد انجم سے)امیر الدین میڈیکل کالج سرکاری شعبے میں ورچوئل باڈی ڈسیکشن متعارف کرانے والا پہلا ادارہ بن گیا میڈیکل تعلیم کے معیار کو بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے 15 ملین روپے کی مالیت سے جدید ڈیجیٹل اناٹومی ٹیکنالوجی کا افتتاح کر دیا گیا ہے
جہاں میڈیکل کے طلبہ جدید ڈیجیٹل نظام کے ذریعے انسانی اعضاء کی ساخت، افعال اور پیچیدہ طبی طریقہ کار کی عملی تربیت حاصل کر سکیں گے۔ اس جدید لیب کا باقاعدہ افتتاح پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ، و لاہور جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل نے کیا. افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ جدید نظام مخیر حضرات کے تعلیمی و تحقیقی تعاون سے ادارے کو فراہم کیا گیا ہے۔
تقریب میں پروفیسر عطیہ مبارک، پروفیسر تسلیم رضا، پروفیسر شائستہ فاروق، پروفیسر فوزیہ فرزانہ اور پروفیسر منیزہ سعید نے خصوصی طور پر شرکت کی جبکہ ایم ایس پروفیسر فریاد حسین، پروفیسر کنول سعید، ڈاکٹر شائستہ مبین، ڈاکٹر شگفتہ نسرین، پروفیسر طیبہ گل ملک، پروفیسر فرحان رشید، ڈاکٹر عبدالعزیز اور ڈاکٹر ہمنہ انصاری سمیت ڈاکٹرز، سٹوڈنٹس بھی اس موقع پر موجود تھے.
پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی انسانی جسم کے اصل قد کے برابر ایک لمس پذیر 3D ورچوئل نظام ہے۔ اس کے ذریعے طلبہ ڈیجیٹل طور پر انسانی جسم کے مختلف حصوں کو کاٹ کر، زوم کر کے اور 360 ڈگری پر گھما کر باریکی سے مطالعہ کر سکیں گے۔ اس جدید ٹیکنالوجی کی بدولت روایتی کیمیکلز اور اصلی انسانی لاشوں کے بغیر انسانی جسم کے نظام کی مکمل، محفوظ اور مؤثر مشق ممکن ہو سکے گی۔
انہوں نے کہا کہ عصرِ حاضر کے جدید تقاضوں کے مطابق طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیم و تربیت کی فراہمی کے لیے تمام تر اقدامات جاری ہیں۔ اس جدید لیب کے قیام سے طلبہ کو حقیقی مریضوں کا علاج یا سرجری کرنے سے قبل محفوظ اور کنٹرولڈ ماحول میں عملی تربیت حاصل کرنے کا موقع ملے گا، جس سے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، مہارت اور اعتماد میں نمایاں اضافہ ہوگا اور یہ تجربہ عملی میدان میں ان کے لیے انتہائی معاون ثابت ہو گا۔
پرنسپل پی جی ایم آئی نے مخیر حضرات کے جذبۂ خیر سگالی اور تعلیمی تعاون کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے نہ صرف تعلیمی و تحقیقی معیار مزید بلند ہوگا بلکہ لاہور جنرل ہسپتال میں مریضوں کو فراہم کی جانے والی علاج معالجے کی سہولیات کو بھی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ادارے کی پالیسی کے تحت طلبہ کو بین الاقوامی معیار کی تعلیمی و تحقیقی سہولیات کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جائے گی تاکہ امیر الدین میڈیکل کالج اور جنرل ہسپتال کو معیاری طبی تعلیم، تحقیق اور مریض دوست پالیسیوں پر گامزن رکھا جا سکے









