اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن) وفاقی وزیرپارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ افغان حکام کی پاکستان کے خلاف الزام تراشی کو مسترد کر تے ہیں، افغانستان بے بنیاد الزامات لگانے کے بجائے دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرے۔
وفاقی دارالحکومت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر طارق فضل چودھری کا کہنا تھا کہ پاکستان پر لگائے جانے والے افغان الزامات کی کوئی حقیقت نہیں، افغانستان اپنی سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دراندازی کا مکمل خاتمہ یقینی بنائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن کے قیام کی بات کی ہے، تاہم جب بھی پاکستان پر جارحیت مسلط کی گئی، اس کا منہ توڑ جواب دیا گیا۔وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج آج بھی ہر قسم کی جارحیت کا جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔
ڈاکٹر طارق فضل چودھری کا کہنا تھا پاکستان نے افغانستان کو دراندازی اور دہشتگردی کے ٹھوس شواہد فراہم کیے ہیں، استنبول اور دوحہ مذاکرات کے دوران بھی افغان نمائندوں کے سامنے یہ ثبوت رکھے گئے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی کا کوئی جواب نہیں تھا، مذاکرات کے باوجود افغان عبوری حکومت دراندازی روکنے کے لیے تیار نہیں ہوئی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر افغان سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال ہوتی رہی تو پاکستان کو تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔
ڈاکٹر طارق فضل چودھری کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان کو چاہیے کہ وہ دہشتگرد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرے اور پاکستان میں دراندازی روکنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔









