احسن اقبال 15

احسن اقبال نے صوبائی حکومتوں کے بازار تاخیر تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کے فیصلے کی مخالفت کردی

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے صوبائی حکومتوں کے بازار تاخیر تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کے فیصلے کی مخالفت کر تے ہوئے کہاہے کہ میں ذاتی طورپر سمجھتاہوں کہ صوبائی حکومتوں نے جلدبازی کی ہے کہ جو مارکیٹس کو اجازت دیدی کہ بے شک رات بارہ ایک بجے تک کھلے رہیں، ہم ابھی تک کرائسز سے نکلے نہیں، ایک ایک بوند تیل ڈالر میں آتاہے ۔

ایک انٹرویو میں احسن اقبال کاکہناتھاکہ سب سے پہلی چیز تو یہ ہے کہ ہمیں بحیثیت قوم ذمہ داری کا مظاہرہ کرناچاہیے ، فرض ہے کہ لائف سٹائل کو بدلیں، طرز عمل میں سنجیدگی لے کرآئیں، میں بھی دنیا سے واقف ہوں،کہیں کاروباری مراکز چھ بجے کے بعد کھلے نظرآتے ہیں؟امریکہ ، جاپان، ملائشیا،چین یورپ جہاں مرضی چلے جائیں، چھ نہیں تو آٹھ بجے کاروبار بند ہوجاتاہے، صبح چھ سات بجے اپنی زندگی شروع کرتے ہیں، یہی بات دین بھی سکھاتا ہےکہ عشا کے بعد معاملات لپیٹ دیں اور فجر کے بعدرزق کی تلاش میں نکلیں، اس میں اللہ برکت بھی دیتا ہے۔

ان کا مزیدکہناتھاکہ ہمارے ہاں عجیب لائف سٹائل ہے، رات کو دو تین بجے تک جاگتے ہیں اور صبح ایک بجے سے پہلے کوئی کاروبار شروع نہیں ہوتا، جب میں جی سی میں پڑھتا تھا تو تبھی ہمارااگر پہلاپیریڈ مس ہوجاتا تو صبح ساڑھے آٹھ نو بجے انارکلی کی دکانیں کھل جایا کرتی تھیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کاکہناتھاکہ حکومت شاید دباﺅ میں آئی لیکن جب کرائسز میں ہوں تو قوم کو رہنما ئی کی ضرورت ہے، جب شہبازشریف وزیراعلی تھےاور شادی ہال دس بجے بند کرانے کا اعلان ہوا، پہلے لوگوں میں غصہ تھا اور پھر ایک سال بعد وہی لوگوں نے اپنے آپ کو ڈھال لیا اور تعریف کرنا شروع کردی، لوگ ایڈجسٹ کرتے ہیں، دنیا میں کوئی قوم نہیں جو ترقی پذیر ہو اور رات تین بجے تک جاگے اور صبح ایک بجے تک سوتی رہے،۔

احسن اقبال نے کہاکہ ہمارے ہاں چھ سے آٹھ ہزار میگاواٹ سولر پر منتقلی ہوئی لیکن کسی حدتک ٹھہراﺅ میں لانا پڑا،گرڈ سے بالکل لوڈ ختم ہوجائے تو وہ بھی ایک مسئلہ ہے، گرڈ بھی بیلنس کرنا ہے،پاکستان کو سولر کنورژن کے لیے ایک مثال کے طورپر پیش کیاجارہاہے، اگلے مرحلے میں ہمیں اپنی ٹرانسپورٹ سیکٹر کو ای وی پر منتقل کرنا ہے، درآمد ہونیوالا تیل اسی فیصد سے زیادہ ٹرانسپورٹ سیکٹر کی نظرہوتاہے، اس میں بھی چالیس پینتالیس فیصد دو تین ویلر پر خرچ ہوتا ہے، آلودگی بھی ہوتی ہے، اسی وجہ سے کنورشن کو پروموٹ کیا جارہے ہے کہ سبسڈی دیں، بجٹ میں بھی تجاویز ہوں گی ، حکومت نے داخلی ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کی بھی کوشش کی اور پروموٹ کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ درآمدی توانائی پر انحصار کم سے کم کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں