سپریم کورٹ 220

آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس،پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ ضمانت پر رہا

اسلام آ باد (رپورٹنگ آن لائن ) سپریم کورٹ نے آمدن سے زائد اثاثہ جات میں پیپلزپارٹی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کی ایک کروڑ رو پے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کے بدلے درخواست ضمانت منظور کرلی، جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ نیب خورشید شاہ کو حراست میں رکھنے کی معقول وجہ نہیں بتا سکی، خورشید شاہ کا نام ای سی ایل میں رہے گا، وہ ای سی ایل سے نام نکالنے کے لیے احتساب عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔

جمعرات کو سپریم کورٹ میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی خورشید شاہ کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ نیب کے وکیل نے سماعت کے دوران موقف اختیار کیا کہ خورشید شاہ کیخلاف تحقیقات مکمل ہو گئی ہے، وکیلوں کی ہڑتال اور ہنگاموں کی وجہ سے ریفرنس دائر نہ ہو سکا۔

عدالتی استفسار پر خورشید شاہ کے وکیل نے کہا کہ خورشید شاہ پر 12 املاک اور 5 بینک اکاونٹس کو جواز بنا کر ریفرنس بنایا گیا، نیب نے خورشید شاہ پر 574 ایکڑ زرعی کی خریداری پر کرپشن کا الزام لگایا، ٹپہ دار نے تسلیم کیا انہوں نے زمین کی قیمت اندازے سے لگائی، 574 ایکڑ زمین کی قیمت خرید سیل ڈیڈ اور کلیکٹر کے نوٹی فکیشن سے کنفرم ہوتی ہے، 1039 ایکڑ بنجر زمین 1979 میں عبدالحفیظ پیرزادہ کے والد عبد الستار پیرازادہ نے 80 ہزار میں خریدی، انہوں نے یہ زمین 1982 میں آگے فروخت کردی، پھر یہ زمین خورشید شاہ نے خریدی، زمین کو اب لفٹ ایریگیشن کے ذریعے سیراب کیا جاتا ہے۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے ایک کروڑ رو پے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کے بدلے خورشید شاہ کی درخواست ضمانت منظور کرلی، جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ نیب خورشید شاہ کو حراست میں رکھنے کی معقول وجہ نہیں بتا سکی۔ عدالت عظمی نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ خورشید شاہ کا نام ای سی ایل میں رہے گا، وہ ای سی ایل سے نام نکالنے کے لیے احتساب عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔

22 اپریل 2020 کو سندھ ہائی کورٹ کے سکھر بینچ نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں گرفتار پی پی پی کے رہنما خورشید شاہ کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی جس کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ خیال رہے کہ نیب 19 ستمبر 2019 کو پی پی پی کے سینئر رہنما خورشید شاہ کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں گرفتار کیا تھا۔ 31 جولائی کو نیب نے رکن قومی اسمبلی اور پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کے خلاف انکوائری کی منظوری دی تھی، جس کے بعد اگست میں تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کیا گیا تھا۔

یاد رہے نیب کی جانب سے خورشید شاہ کو سکھر میں طلب کیا گیا تھا لیکن پیپلز پارٹی کے رہنما کی جانب سے یہ کہہ کر پیشی سے معذرت کرلی گئی تھی کہ انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش ہونا تھا۔ اس سے قبل اگست میں احتساب کے ادارے نے سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ پر مبینہ کرپشن کے ذریعے 500 ارب روپے سے زائد کے اثاثے بنانے کا الزام عائد کیا تھا لیکن پی پی پی کے رہنما نے ان تمام الزامات کو مسترد کردیا تھا۔ اس وقت نیب ذرائع کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات میں بتایا گیا تھا کہ ادارے نے خورشید شاہ کے خلاف بینک اکانٹس، بے نامی اثاثوں اور متعدد فرنٹ مینز کی تفصیلات حاصل کرلی ہیں۔

مذکورہ معاملے کی تفصیلات میں یہ بات سامنے آئی تھیں کہ خورشید شاہ اور ان کے اہلخانہ کے کراچی، سکھر اور دیگر علاقوں میں 105 بینک اکانٹس موجود ہیں، اس کے علاوہ پی پی رہنما نے اپنے مبینہ فرنٹ مین پہلاج مل کے نام پر سکھر، روہڑی، کراچی اور دیگر علاقوں میں مجموعی طور پر 83 جائیدادیں بنا رکھی ہیں۔اس ضمن میں مزید بتایا گیا تھا کہ خورشید شاہ نے مبینہ فرنٹ مین لڈو مل کے نام پر 11 اور آفتاب حسین سومرو کے نام پر 10 جائیدادیں بنائیں۔

مذکورہ ذرائع نے انکشاف کیا تھا کہ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نے اپنے مبینہ فرنٹ مین کے لیے امراض قلب کے ہسپتال سے متصل ڈیڑھ ایکڑ اراضی نرسری کے لیے الاٹ کرائی، اس کے علاوہ خورشید شاہ کی بے نامی جائیدادوں میں مبینہ طور پر عمر جان نامی شخص کا بھی مرکزی کردار رہا جس کے نام پر بم پروف گاڑی رجسٹرڈ کروائی گئی جو سابق اپوزیشن لیڈر کے زیر استعمال رہی۔ اس کے علاوہ دعوی کیا گیا تھا کہ اسلام آباد میں خورشید شاہ کا زیر استعمال گھر بھی عمر جان کے نام پر ہے اور سکھر سمیت دیگر علاقوں میں تمام ترقیاتی منصوبے عمر جان کی کمپنی کو فراہم کیے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں