ماسکو (رپورٹنگ آن لائن) روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ یورپی ممالک اب بھی یوکرین تنازع کے پرامن حل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں اور روس و امریکا کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے یوکرین کی جانب سے بحیرہ آزوف اور بحیرہ اسود میں کی جانے والی کارروائیوں کو ’’خالص دہشت گردی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
چاڈ کے وزیر خارجہ عبداللہ صابر فضول کے ساتھ مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سرگئی لاوروف نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کبھی یہ نہیں کہا کہ الاسکا میں روس اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے ختم ہو چکے ہیں، ان کے بقول یورپی ممالک اور یوکرینی قیادت مسلسل ایسے اقدامات کر رہے ہیں جن کا مقصد ان معاہدوں کو ناکام بنانا ہے۔
لاوروف نے کہا کہ یوکرین کی جانب سے بحیرہ آزوف اور بحیرہ اسود میں ناصرف روسی بلکہ ترک مفادات کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، ان کے مطابق ترک میڈیا نے بھی اطلاع دی ہے کہ یوکرینی بغیر پائلٹ بحری گاڑیوں نے ترک جہازوں، ٹینکروں اور ترک سامان لے جانے والے بحری جہازوں پر حملے کئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلو سٹریم گیس پائپ لائن کے انفراسٹرکچر پر بھی بار بار حملے کئے جا رہے ہیں اور روس کو توقع ہے کہ ترکی ان واقعات پر کھل کر مؤقف اختیار کرتے ہوئے کیف کو سخت اور واضح پیغام دے گا۔
روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ یوکرین کی موجودہ کارروائیاں ’’قزاقی بھی نہیں بلکہ خالص دہشت گردی‘‘ ہیں، ان کے مطابق ان حملوں کا مقصد کسی فائدے کا حصول نہیں بلکہ صرف نقصان پہنچانا اور خوف و ہراس پھیلانا ہے۔
روسی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ روس بحیرہ آزوف اور بحیرہ اسود میں آزاد بحری آمدورفت کو درپیش خطرات کو ختم کرنے کے لئے کام کر رہا ہے اور صدر ولادیمیر پیوٹن اس حوالے سے مسلسل اقدامات کر رہے ہیں۔
مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے لاوروف نے کہا کہ ایران پر دوبارہ حملے تہران اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی ہیں، ان کے مطابق ایسے اقدامات تنازع کے حل کے بجائے مذاکرات کا راستہ بند کرتے ہیں اور خطے میں کشیدگی میں اضافہ کرتے ہیں۔
افریقی ممالک کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک روس اور افریقی ریاستوں کے درمیان تعاون کو متاثر کرنے کے لئے مختلف ذرائع استعمال کر رہے ہیں تاہم روس ساحل خطے کے ممالک کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے، فوجی تربیت اور انسانی امداد کا سلسلہ جاری رکھے گا۔
لاوروف نے بتایا کہ اکتوبر میں ماسکو میں ہونے والے روس، افریقہ سربراہی اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف تعاون اہم ایجنڈا ہوگا۔









