بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) 16ستمبر کو دریاؤں کو سمندر سے ملانے والی چین کی پہلی گرینڈ کینال ” پھنگ لو کینال” باضابطہ طور پر بحری آمدورفت کے لیے کھول دی گئی۔ اس کے ساتھ ہی چین اور آسیان کے درمیان تعاون کو ایک “گولڈن کوریڈور” میسر آ گیا ہے۔ تجزیے کے مطابق پھنگ لو کینال کے فعال ہونے سے چین اور آسیان کے درمیان تجارتی روابط کو مزید فروغ ملنے اور چین و آسیان ممالک کے درمیان تجارت و اقتصادی تعاون کے نقشے کو نئی شکل ملنے کی توقع ہے۔
حالیہ برسوں میں چین اور آسیان کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعاون مسلسل گہرا ہوا ہے۔ چین گزشتہ 17 برس سے مسلسل آسیان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ رواں سال جنوری سے اگست تک چین اور آسیان کے درمیان تجارت کا مجموعی حجم 5.95 ٹریلین یوان رہا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 20.6 فیصد زیادہ ہے اور چین کی مجموعی بیرونی تجارت کا 17.1 فیصد بنتا ہے۔ پھنگ لو کینال کے فعال ہونے سے چین۔آسیان تعاون کو مزید تقویت ملے گی۔
پھنگ لو کینال کے ذریعے چین کے جنوب مغربی علاقوں اور آسیان ممالک کے درمیان سرمایہ، ٹیکنالوجی اور باصلاحیت افرادی قوت سمیت مختلف وسائل مزید میسر ہوں گے۔ اس سے کینال کے اطراف جہاز سازی، لاجسٹکس اور پراسیسنگ و تجارتی سرگرمیوں سمیت بندرگاہ سے وابستہ صنعتوں کے ارتکاز کو فروغ ملے گا، ایک نئی صنعتی پٹی تشکیل پائے گی اور روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔
اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ پھنگ لو کینال نے دنیا کے لیے ایک نئے “کھلے پن کے مرکز” کی بنیاد رکھی ہے۔ یہ جنوب کی جانب دریاؤں کو سمندر سے ملاتی ہے جبکہ شمال کی طرف یورپ اور ایشیا سے منسلک ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ چین۔یورپ ریلوے ایکسپریس اور ریل۔سمندر مشترکہ نقل و حمل کے نظام سے مربوط ہو کر چین۔آسیان تعاون اور بیلٹ اینڈ روڈ کی مشترکہ تعمیر کو آپس میں جوڑتی ہے، جس سے علاقائی کھلے پن کا نیا نقشہ تشکیل پاتا ہے اور دنیا کے ساتھ رابطے مزید مضبوط ہوتے ہیں۔
پھنگ لو کینال نہ صرف چین۔آسیان کے باہمی مفاد اور مشترکہ کامیابی کو فروغ دینے والی نئی آبی گزرگاہ ہے، بلکہ دنیا کے لیے “چین کے مواقع” سے استفادہ کرنے کا ایک نیا راستہ بھی ہے۔









