رپورٹنگ آن لائن۔۔۔
پاکستان انفارمیشن کمیشن کے انفارمیشن کمشنرز نے صوبہ پنجاب سے متعلقہ آر ٹی آئی اپیلوں کی سماعت لاہور میں آر ٹی آئی کورٹ پنجاب انفارمیشن کمیشن میں کی۔ پاکستان انفارمیشن کمیشن کے چیف انفارمیشن کمشنر جناب شعیب احمد صدیقی اور جناب اعجاز حسن اعوان انفارمیشن کمشنر نے 20کیسوں کی سماعت کی اور معلومات کا افشاء کراتے ہوئے اُنہیں موقع پر نمٹا دیا۔

پاکستان انفارمیشن کمیشن کا کسی صوبائی ہیڈ کوارٹر پر مقدمات کی سماعت کرنے کا یہ پہلا موقع تھا۔ قبل ازیں اُن کی آمد پر پنجاب انفارمیشن کمیشن کے چیف انفارمیشن کمشنر محبوب قادر شاہ نے دیگر انفارمیشن کمشنرز اور سٹاف کے ہمراہ اُن کو خوش آمدید کہا اور مقدمات کی سماعت کے بعد پنجاب انفارمیشن کمیشن کی کارکردگی کی بابت بریفنگ دی۔ بعدازاں “میٹ دی پریس” کی تقریب میں مدعو شدہ صحافیوں سے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے کمشنر صاحبان نے خطاب کرتے ہوئے آر ٹی آئی کےاغراض و مقاصد ، اپنے کمیشن کی کارکردگی اور درپیش چیلنجز کا جائزہ پیش کیا۔ صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے چیف انفارمیشن کمشنر پاکستان نے بتایا کہ اُنہوں نے ہر صوبائی ہیڈ کوارٹر کا دورہ کر کے مقدمات کو مقامی سطح پر نبٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں وہ لاہور میں دوبارہ 13 مارچ 2023 کو آئیں گے۔تا ہم اُنہوں نے واضح کیا کہ نئی آر ٹی آئی اپیلوں کی دائرگی پاکستان انفارمیشن کمیشن اسلام آباد میں براہِ راست کی جاتی رہیں گی۔

محبوب قادر شاہ چیف انفارمیشن کمشنر پنجاب نے بھی سوالوں کا جواب دیتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ کمیشن پبلک باڈیز کی طرف سے عوامی معلومات کے ازخود افشاء کی ذمہ داری میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرے گا۔ یہ کہ تمام آئینی ،قانونی اور ایگزیکٹو ادارے بطور پبلک باڈی آر ٹی آئی قانون کے تحت عوامی معلومات کے افشاء کے پابند ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ہر پبلک باڈی اپنے متعلقہ تمام معلومات کو آفیشل ویب سائٹ کے ذریعہ از خود افشاء کرنے کے علاوہ تقنیقی اعتبار سے معلومات کا آسانی سے ڈاؤن لوڈ ہونے کو یقینی بنانے کی بھی پابند ہے۔
جناب اعجاز حسن اعوان پاکستان انفارمیشن کمشنر نے میٹ دی پریس میں بتایا کہ اُن کا کمیشن جلد ہی تمام پبلک باڈیز کو ویب سائٹس کے ذریعہ معلومات کے ازخود افشاء کے نظام پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے احکامات جاری کرے گا۔ اور تین ماہ کے اندر اندر عمل درآمد نہ ہونے پر کمیشن حکومتِ پاکستان کو محکمانہ سربراہوں کے خلاف کاروائی کی سفارش کرے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ آر ٹی آئی کے ذریعے پبلک باڈیز کا احتساب اسلام کی رُو کے عین مطابق ہے کیونکہ یہ یومِ محشر کو خدا کے احتساب کی تیاری کا عمل ہے ۔

34سول سوسائٹی نے پاکستان انفارمیشن کمیشن کی صوبائی ہیڈ کوارٹرز تک رسائی اور پنجاب انفارمیشن کمیشن کی طرف سے بھر پور تعاون کرنے کو خوب سراہا۔ اوراِسے پاکستان میں شفافیت کی ترویج کے علاوہ رول آف لاء اور گُڈ گورننس کا پیش خیمہ قرار دیتے ہوئے 27 فروری کو پاکستان میں آر ٹی آئی قانون کی طرف اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔









