کراچی (رپورٹنگ آن لائن) مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کے بھاؤ میں مجموعی طور پر دباؤ برقرار رہا۔ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں 300 روپے فی من کمی کرتے ہوئے اسے 18 ہزار روپے فی من پر بند کیا۔
پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (PCGA) کی 15 اکتوبر کو جاری کردہ کپاس کی پیداوار سے متعلق رپورٹ کے مطابق، اس عرصے تک ملک میں روئی کی پیداوار 41 لاکھ گانٹھیں رہی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 7.5 فیصد زیادہ ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق پیداوار میں اضافے کے باعث قیمتوں پر دباؤ ہے۔ جنرز کا کہنا ہے کہ گرم موسم کے باعث رواں سال کپاس کی پیداوار گزشتہ سال سے زیادہ رہنے کی توقع ہے، تاہم کپاس کا معیار نسبتاً کمزور ہونے کی اطلاعات ہیں، جو قیمتوں پر دباؤ کی ایک اور وجہ ہے۔
دوسری جانب ٹیکسٹائل سیکٹر کی مشکلات بھی برقرار ہیں۔ بلند شرحِ سود اور توانائی کی قیمتوں کے باعث پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد ٹیکسٹائل ملز اپنی مکمل پیداواری صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر رہیں۔ بالخصوص پاور لومز کے حالات تشویش ناک بتائے جا رہے ہیں۔ فیصل آباد سے موصولہ اطلاعات کے مطابق وہاں 40 سے 50 فیصد پاور لومز غیر فعال ہو چکی ہیں۔ پاور لومز مالکان کے مطابق اس صورتِ حال کے باعث تقریباً ایک لاکھ کاریگر بے روزگار ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ EFS کے بغیر بیرونِ ملک سے یارن اور کپڑے کی بڑی مقدار میں آمد نے بھی مقامی صنعت کو متاثر کیا ہے۔جننگ سیکٹر کو بھی فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی کارروائیوں کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔
جننگ فیکٹریوں پر چھاپوں اور معائنے کے خلاف پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین اور عہدیداروں نے پریس کانفرنس کے ذریعے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔مارکیٹ میں سندھ اور پنجاب کی روئی کے بھاؤ میں معیار اور ادائیگی کی شرائط کے مطابق تقریباً 2 ہزار روپے فی من کا فرق بتایا جا رہا ہے۔ سندھ اور پنجاب میں روئی کے بھاؤ 16 ہزار 500 سے 18 ہزار 500 روپے فی من جبکہ پھٹی کے نرخ 7 ہزار سے 9 ہزار 200 روپے فی 40 کلو کے درمیان رہے۔ بلوچستان میں روئی کے بھاؤ 17 ہزار 600 سے 18 ہزار 200 روپے فی من اور پھٹی کے نرخ 7 ہزار 200 سے 9 ہزار 400 روپے فی 40 کلو بتائے گئے۔
کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان کے مطابق بین الاقوامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے مجموعی طور پر ملا جلا رجحان رہا اور نیویارک کاٹن کے بھاؤ 80 سے 86 امریکی سینٹ فی پاؤنڈ کے درمیان رہے۔امریکی محکمہ زراعت (USDA) کی ہفتہ وار برآمدی فروخت رپورٹ کے مطابق، سال 2026ـ27 کے لیے ایک لاکھ 99 ہزار 600 گانٹھوں کی فروخت ہوئی۔ ویتنام 94 ہزار 500 گانٹھوں کے ساتھ پہلے، بنگلہ دیش 34 ہزار 200 کے ساتھ دوسرے، ترکی 33 ہزار 700 کے ساتھ تیسرے اور پاکستان 15 ہزار 300 گانٹھوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہا۔
رپورٹ کے مطابق روئی کی برآمدات ایک لاکھ 96 ہزار 400 گانٹھیں رہیں۔ ویتنام 78 ہزار 900 گانٹھوں کی درآمد کے ساتھ پہلے، پاکستان 26 ہزار 400 کے ساتھ دوسرے اور ترکی 18 ہزار 600 گانٹھوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔ماہرین کے مطابق کپاس کی پیداوار میں کمی، زرعی مداخل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، ٹیکسٹائل صنعت کی مشکلات اور جننگ سیکٹر کو درپیش مسائل نے گزشتہ کئی برسوں سے کپاس سے وابستہ کاروباری طبقوں، جنرز اور ٹیکسٹائل صنعت کو متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کپاس پیدا کرنے والے کئی علاقوں میں شوگر ملوں کے قیام نے بھی کپاس کی کاشت کو نقصان پہنچایا ہے۔
اسی طرح تاریخی کاٹن ایکسچینج کی عمارت پر قبضے اور اسے ایف آئی اے کے حوالے کیے جانے کے معاملے پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔صنعتی حلقوں کے مطابق کپاس کے شعبے کی بحالی کے لیے حکومتی توجہ، پیداواری لاگت میں کمی اور مقامی ٹیکسٹائل و جننگ صنعت کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔









