نیلی راوی بھینس

چین کے ڈیری ماہرین پاکستان کی نیلی راوی بھینس پر فدا

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن )چینی ڈیری ماہر ین نے کہا ہے کہ پاکستان کی نیلی راوی بھینس(بلیک گولڈ) دنیا کی سب سے زیادہ دودھ دینے والی اقسام میں سے ایک ہے ،نیلی راوی بھینس کی سالانہ دودھ کی پیداوار1.5ٹن ہے، پاکستان سے اچھی نسل کی بھینسیں درآمد کی جائیں گی۔

چائنا اکنامک نیٹ کے مطابق بفیلو انڈسٹری(بھینسوں کی صنعت) میں چینی اور پاکستانی کاروباری اداروں کے مابین پہلا مشترکہ کاروباری اجلاس پاک چین ز رعی تعاون انفارمیشن پلیٹ فارم کے زیر اہتمام منعقد ہو ا جو گزشتہ ماہ قائم کیا گیاتھا، جس کا مقصد دونوں ممالک کے زرعی کاروباری اداروں کے مابین معلومات میں حائل رکاوٹیں ختم کرنا اور عملی تعاون کو بڑھانا ہے ۔

بفیلو انڈسٹری (بھینس کی صنعت )میں شامل چینی اور پاکستان کی معروف کمپنیوں اور اداروں کے نمائندوں نے ورچوئل میٹنگ میں بھینسوں کی نئی نسل کی تیاری میں تکنیکی تعاون کی فزیبلٹی اور بھینسوں کی اعلی پیداوار والی قسم پیدا کرنے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔

بھینس کے دودھ ، پاوڈر ، گوشت اوردےگر مصنوعات کی تیاری میں کاروباری تعاون پاکستان کی برآمدات کو تیز تر کرسکتا ہے۔گوانگسی یونیورسٹی کے کالج آف اینیمل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے نائب ڈین لیو یانگ چھنگ نے یہ پہلا سوال پوچھا کہ کیا ہم پاکستان سے بھینسیں درآمد کرسکتے ہیں؟” ۔پاکستان کی نیلی راوی بھینس دنیا کی مشہور سب سے زےادہ دودھ دےنے والی اقسام میں سے ایک ہے ، جسے “بلیک گولڈ” کہا جاتا ہے۔ ایک چینی ڈیری ماہر وانگ ڈنگ میان نے ایک رپورٹ میں یہ بتایا کہ چین میں مقامی دودھ والی گائے کی دودھ کی پیداوار نسبتا کم ہے ، جس کی سالانہ پیداوار فی گائے تقریبا 600سے 800کلوگرام ہوتی ہے ، جبکہ پاکستان کی نیلی راوی بھینس کی سالانہ دودھ کی پیداوار1.5ٹن ہوتی ہے۔1947 کے اوائل میں 50پاکستانی نیلی راوی بھینسیں چین میں متعارف کروائی گئیں ، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دودھ کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی اور اس کے بعد سے مزید درآمد نہیں ہوئی۔

اس حالت میں چینی کمپنیاں توقع کر تی ہیں کہ پاکستان سے مزید بہتر قسم کی بھینسیں درآمد کی جائیں گی۔ حکومت پاکستا ن کی پالیسی کے مطابق ، ” زندہ جانور برآمد کرنے کی اجازت نہیں ہے ،” ڈاکٹر خورشید احمد نے وزارت برائے قومی فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے جانور پالنے والے کمشنر سے کہا اگر یہ قابل عمل نہ ہو تو ہم بھینسوں کے بےج درآمدکرسکتے ہیں، ہمارے پاس مختلف قسم کی بھینسیںجو پہلے سے موجوہیں لہذہم نیلی راوی یا ہولا بھینس کے بےج جیسے دیسی قسم کے بےج کو چین میں درآمد کرسکتے ہیںاور اس پر تجربات کر کے بہترےن نسل کی بھےنس تےارکر سکتے ہیں۔

اس تجویز کا جواب دیتے ہوئے ساہیوال کی الحیوان سیمن کمپنی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر فاروق سندھو نے کہا پاکستان کی بھینسوں کی صنعت کو قیمت میں اضافے کا احساس کرنے کے لئے اپنے صنعتی سلسلے میں توسیع کرنے کی اشد ضرورت ہے ، اور ہم امید کرتے ہیں کہ چینی ہم منصب ٹیکنالوجیز اور تیاری میں ہماری مدد کرسکتے ہیں ۔ڈاکٹر فاروق کے مطابق ، الحیوان سیمن کمپنی کو گائے کے کی نشوونما کے لئے چھ سال کا تجربہ ہے ، اور چینی کمپنی کی تکنیکی مدد سے ، الحیوان سیمن بھینسوں کے بےج میں تجربات کرنے اور بہتر اقسام کی افزائش کرنے کے قابل ہوسکتا ہے۔

ہم پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے خواہاں ہیں ، بھینسوں کے بےج کو مشترکہ طور پر تیار کرنے کے لئے ایک لیب قا ئم کریں یا بھینسوں کا دودھ اورپاوڈر برآمد کرنے کے لئے پاکستانی ہم منصبوں کے ساتھ مل کر کام کریں۔رائل گروپ کمپنی لمیٹڈکے چیئر مین ، ڈیری انڈسٹری میں چینی سرکردہ انٹرپرائز اور بھینس دودھ کی تیاری میں پیش قدمی کرنے والے ہوانگ جیاڈی نے کہاہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان مزید سازگار پالیسیاں مہیا کرسکتا ہے،انہوں نے مزید کہا کہ چین اور مشرقی ایشیا کے کاروباری اداروں کے مابین اونٹ کے دودھ اور پاوڈر کی صنعت میں پہلے سے ہی ایک سمجھدار کاروباری ماڈل موجود ہے جو آگے کی راہ میں گامزن ہوسکتا ہے،ہوانگ نے اشارہ کیا ، “ہم اگلے مہینوں میں تحقیقات کرنے اور ممکنہ شراکت داروں کی تلاش کے لئے ایک وفد پاکستان بھیجیں گے ۔

اگر چینی کمپنی بھینس دودھ کے کاروبار کی پوری سپلائی چین کی حمایت کے لئے پاکستان میں ایک بہت بڑی سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو یہ بلاشبہ اس ملک کو بے حد معاشی فوائد پہنچائے گی۔چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر سجاد خان نے تجویز پیش کی کہ اگر چینی اور پاکستانی کاروباری اداروں کے مابین تعاون ہو تو بھینس کی صنعت میں تحقیقی اداروں اور انجمنوں پر غور کیا جائے۔منتظمین کےلئے تمام مہمانوں نے انفارمیشن پلیٹ فارم کا شکریہ ادا کیا۔