چین اور سعودی عرب

چین اور سعودی عرب کی ترقیاتی حکمت عملی میں ہم آہنگی موجود ہے، چینی میڈ یا

ریا ض (انٹرنیشنل ڈیسک) چین اور سعودی عرب کے درمیان روابط کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ ہفتہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق شی جن پھنگ نے چینی صدر منتخب ہونے کے بعد 2016 میں عرب ممالک میں پہلا دورہ سعودی عرب ہی کاکیا تھا۔ اسی دورے کے دوران دونوں ممالک نے جامع اسٹریٹجک شراکت داری قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ چھ سال بعد کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی بیسویں قومی کانگریس کے بعد چینی صدر کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے ممالک میں پہلا دورہ سعودی عرب کا کیا گیا۔ اس سے دونوں ممالک کی گہری دوستی کی عکاسی ہوتی ہے ۔دونوں ممالک نہ صرف تزویراتی شراکت دار ہیں بلکہ مخلص دوست بھی ہیں۔

اس وقت دنیا میں تبدیلیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، عالمی معیشت کی بحالی قدرے کمزور ہے۔ بعض بڑے مغربی ممالک کے یکطریفہ پسندی پر عمل پیرا ہونے اور دوسرے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت کرنے سے جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے۔ چین اور سعودی عرب کی ترقیاتی حکمت عملی میں ہم آہنگی موجود ہے۔ نئی صورتحال کے تناظر میں فریقین کے باہمی سیاسی مفادات ، اقتصادی تعاون اور افرادی و ثقافتی تبادلے کو مضبوط بنانا نہ صرف دونوں ممالک کے مفادات سے مطابقت رکھتا ہے بلکہ دنیا کے امن و استحکام کے تحفظ کے لیے بھی مفید ہے۔

شی جن پھنگ کے دورے کے دوران چین اور سعودی عرب نے باہمی دلچسپی کے امور میں ایک دوسرے کی حمایت کا اظہار کیا۔ دونوں ممالک کے تعلقات کے فروغ کے لیے معاشی و تجارتی تعاون کی بھی ضرورت ہے۔ وبائی صورتحال کے باوجود 2021 میں دو طرفہ تجارت کے حجم میں سال بہ سال تیس فیصد کا اضافہ ہوا، جس سے فریقین کے لچکدار معاشی و تجارتی تعلقات کا اظہار ہوتا ہے۔ اس دفعہ چینی صدر اور سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم کے مذاکرات کے دوران چینی صدر نے سعودی عرب کے ویژن 2030سمیت سلسلہ وار اہم ترقیاتی انیشیٹوز کی حمایت کا اظہار کیا اور ای کامرس، ڈیجیٹل معیشت، صاف توانائی، اعلیٰ ٹیکنالوجی، اور خلائی تحقیق سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کی توسیع پر زور دیا، اور چین اور سعودی عرب کے درمیان معاشی و تجارتی تعاون کو مضبوط بنانے پر روشنی ڈالی۔

علاوہ ازیں چین اور سعودی عرب کے درمیان عوامی تبادلے بھی فروغ پا رہے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط سے مضبوط تر بنایا جاسکتا ہے۔
یقین ہے کہ چین-سعودی عرب کی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کا فروغ دونوں ممالک کے عوام کو روشن مستقبل فراہم کرے گا اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے اور عالمی ترقی اور خوشحالی کو آگے بڑھانے میں زیادہ خدمات سرانجام دےگا۔