بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) چینی صدر شی جن پھنگ نے برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم کی درخواست پر ان سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔منگل کے روز شی جن پھنگ نے برنہم کو برطانوی وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ چین اور برطانیہ جامع اسٹریٹجک شراکت دار ہیں۔
اگرچہ دونوں ممالک کے سماجی نظام اور قومی حالات مختلف ہیں، تاہم دونوں ملکوں کے مشترکہ مفادات ان کے اختلافات سے کہیں زیادہ ہیں۔ دونوں فریقوں کو ایک دوسرے کا احترام اور اعتماد کرنا چاہیے، اختلافات سے بالاتر ہو کر اور اختلافات سے نمٹتے ہوئے مشترکہ بنیاد تلاش کرنی چاہیے اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو مزید فروغ دینا چاہیے۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ دونوں حکومتیں معیشت کو ترقی دینے اور عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہیں، اس لیے دونوں ممالک ایک دوسرے کی خوبیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ہیں۔ چین 15ویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران تعلیم، طبی نگہداشت اور مالیات سمیت مختلف شعبوں میں بیرونی دنیا کے لیے اپنے دروازے مزید کھولے گا، جو چین اور برطانیہ کے درمیان تعاون کے اہم شعبے بن سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چین اور برطانیہ دونوں بڑے سائنسی و تکنیکی ممالک ہیں اور تعلیم، ثقافت، کھیل سمیت مختلف شعبوں میں وسیع وسائل رکھتے ہیں۔ دونوں فریقوں کو کھلا اور مستقبل پر مبنی رویہ برقرار رکھتے ہوئے مختلف شعبوں میں تبادلوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ برطانیہ چینی سرمایہ کاروں کے جائز حقوق اور مفادات کا مکمل تحفظ کرے گا۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان اور دنیا کی بڑی معیشتوں کے طور پر چین اور برطانیہ کثیرالجہتی اور کھلی تجارت کی حمایت کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کو اقوام متحدہ کی مرکزی حیثیت برقرار رکھتے ہوئے اقوام متحدہ، گروپ آف 20، عالمی تجارتی تنظیم اور دیگر فریم ورک کے تحت رابطوں اور تعاون کو مضبوط بنانا چاہیے اور مساوی اور منظم عالمی کثیر قطبیت کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔
برنہم نے کہا کہ برطانیہ چین کے ساتھ اعلیٰ سطح کے تبادلے بڑھانے، دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے، عوامی اور ثقافتی تبادلوں کو مضبوط بنانے، دوطرفہ تعلقات کو تاریخ کی بلند ترین سطح پر بحال کرنے اور دونوں ممالک کے عوام کو مزید فائدہ پہنچانے کے لیے تیار ہے۔
برنہم نے کہا کہ تائیوان کے معاملے پر برطانیہ کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ موجودہ پیچیدہ اور ہنگامہ خیز بین الاقوامی صورتحال میں سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی حیثیت سے برطانیہ اور چین کو بین الاقوامی تنازعات اور اہم مسائل کے حل کے لیے بات چیت کو فروغ دینا چاہیے، ماحولیاتی تبدیلی جیسے عالمی چیلنجز سے مشترکہ طور پر نمٹنا چاہیے اور عالمی استحکام و خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔
برنہم نے چین کے شیزانگ خوداختیار علاقے کی گیرونگ کاونٹی میں مٹی کے تودے گرنے سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے کے لیے چین کے مؤثر اقدامات کو سراہا اور متاثرہ برطانوی شہریوں کو مدد فراہم کرنے پر چین کا شکریہ ادا کیا۔









